قومی

Budget 2026: اقتدار سے لے کر ترقی کی بنیاد تک: تقریباً 160 برسوں میں بھارت کے بجٹ میں کتنی آئی تبدیلی؟

آج ملک کی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن مسلسل نویں بار مالی سال 27-2026 کے لیے بجٹ پیش کر رہی ہیں۔ تاہم یہ پہلی بار ہے کہ بجٹ اتوار کے دن پیش کیا جا رہا ہے، اور اسی لیے شیئر مارکیٹ میں آج ایک خصوصی ٹریڈنگ سیشن رکھا گیا ہے۔اب سے کئی دن تک بجٹ کا موضوع ہر طرف چھایا رہے گا، اور ہر کسی کے ذہن میں یہ سوال بھی ہوگا کہ، کس محکمہ کو کتنا فنڈ ملا؟ کس کا ٹیکس بڑھا اور کس کو ریلیف دیا گیا؟ لیکن ان سب سوالات کے درمیان ایک اور بنیادی سوال بھی ہوگا: بجٹ آخر ہے کیا؟ اسے ہر سال پیش کرنے کا رواج کب اور کیسے شروع ہوا؟ اور اس کا پہلا خاکہ کس طرح تیار کیا گیا؟یہ تمام سوالات ہمیں بجٹ کی تاریخ، اس کی اہمیت اور ملک کی معیشت پر اس کے اثرات کی طرف لے جاتے ہیں۔

160 سال پہلے شروع ہوتی ہے کہانی

دراصل، ان تمام سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں آزادی سے بھی پہلے، یعنی آج سے تقریباً 160 سال پیچھے جانا پڑے گا۔ کیونکہ بھارت میں بجٹ کی ابتدا آزادی کے بعد نہیں بلکہ انگریزوں کے دور میں ہوئی تھی۔ سال تھا 1860، جب ملک پر برٹش حکومت نے مکمل قبضہ جما رکھا تھا، 1857 کی تحریک کو کچل دیا گیا تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کو اپنی حکمرانی کو قائم رکھنے کے لیے شدید مالی ضرورت تھی۔ اسی دوران، ایک اسکاٹش ماہرِ معیشت جیمز ولسن نے بھارت کا پہلا بجٹ پیش کیا، لیکن یہ وہ بجٹ نہیں تھا جیسا ہم آج دیکھتے ہیں۔ برطانوی حکومت نے اس بجٹ کو بھارت کے لیے نہیں بلکہ اپنی جیب بھرنے کے لیے پیش کیا تھا، اور اسی بجٹ کے ساتھ پہلی بار انکم ٹیکس کا آغاز ہوا۔اس بجٹ کے ساتھ ایک بنیادی خاکہ تو تیار ہو گیا، لیکن بھاری ٹیکس، محدود اخراجات اور بھارتی عوام پر اقتصادی بوجھ اس وقت بجٹ کی پہچان بن چکے تھے۔

بھارت کا پہلا آزادانہ بجٹ

سال 1947 میں ملک آزاد ہوا، لیکن حالات انتہائی نازک تھے۔ ملک تقسیم ہو چکا تھا، ہنگامے جاری تھے، لاکھوں پناہ گزین آرہے تھے اور معیشت مکمل طور پر بکھری ہوئی تھی۔ ایسے ماحول میں 26 نومبر 1947 کو بھارت کا پہلا آزاد بجٹ آر۔کے۔ شنموکھم چیٹی نے پیش کیا۔ یہ بجٹ صرف سات مہینوں کے لیے تھا، کیونکہ نیا مالی سال اپریل 1948 سے شروع ہونا تھا۔ اس بجٹ میں بھارت اور پاکستان دونوں کے لیے ایک ہی کرنسی رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اس کے بعد، 1949–50 میں جان متھے نے پہلا ایسا بجٹ پیش کیا جو پورے بھارت، یعنی تمام ریاستوں اور صوبوں کو ایک ساتھ کور کرتا تھا۔ یہی وہ دور تھا جب بجٹ صرف حساب کتاب نہیں، بلکہ قوم کی تعمیر کا ایک اہم آلہ بننے لگا۔ اسی لیے بجٹ کو صرف آج کے فائدوں کے زاویے سے نہیں بلکہ اس کی تاریخی پس منظر اور اس کے دور رس اثرات کے ساتھ سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ بجٹ محض ایک دن کا دستاویز نہیں، بلکہ یہ بھارت کی اقتصادی سفر کی مکمل کہانی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

3 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

3 hours ago