قومی

Bribery Game in Balrampur: ’پیسے بھی لے لیے اور معطل بھی کر دیا… بلرام پور کے سرکاری محکمے میں رشوت خوری کا کھیل، ڈی ایم کے دربار میں راز فاش‘

اتر پردیش کے ضلع بلرام پور سے سرکاری محکمے میں مبینہ بدعنوانی اور دھوکہ دہی کا ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے پنچایتی راج محکمہ کی ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ہریا ستگھروا بلاک میں تعینات ایک صفائی کارکن نے محکمہ کے ہی ایک ملازم پر تبادلہ رکوانے اور معطلی سے بچانے کے نام پر 10 ہزار روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ متاثرہ صفائی کارکن سے رقم وصول کرنے کے باوجود اس کی معطلی کا حکم جاری کر دیا گیا، جس کے بعد اس نے انصاف کے لیے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) سے رجوع کرتے ہوئے معاملے کی جانچ اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

یہ معاملہ ہریا ستگھروا بلاک سے متعلق ہے، جہاں تعینات صفائی کارکن شرد کمار گوسوامی نے ضلع پنچایت راج محکمہ کے ملازم روہن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ شرد کمار کے مطابق ان کے تبادلے اور معطلی کی کارروائی زیر غور تھی، جسے رکوانے کے لیے انہوں نے محکمہ کے بااثر ملازم روہن سے رابطہ کیا۔شرد کا الزام ہے کہ روہن نے اعلیٰ سطح تک رسائی اور معاملہ حل کروانے کا دعویٰ کرتے ہوئے 10 ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ نوکری بچانے کی امید میں شرد نے رقم کا انتظام کر کے روہن کے حوالے کر دی، لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف معطلی کا حکم جاری ہو گیا۔

رقم بھی گئی، معطلی بھی ہو گئی

معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب چند روز بعد شرد کمار گوسوامی کو ان کی معطلی کا سرکاری حکم نامہ موصول ہوا۔ رقم ادا کرنے کے باوجود نہ تو تبادلہ رکا اور نہ ہی معطلی سے بچاؤ ممکن ہو سکا، جس کے بعد انہوں نے خود کو دھوکے کا شکار محسوس کیا۔ شرد کمار نے اپنے طبی دستاویزات اور ایک حلف نامے کے ساتھ ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر رقم لینے والے ملازم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی دی ہوئی 10 ہزار روپے کی رقم واپس دلانے کی بھی درخواست کی ہے۔

ملزم نے الزامات مسترد کر دیے

دوسری جانب معاملہ ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پہنچتے ہی ضلع پنچایت راج محکمہ میں ہلچل مچ گئی۔ الزامات کا سامنا کرنے والے ملازم روہن نے تمام دعوؤں کو بے بنیاد، جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ روہن کا کہنا ہے کہ انہیں ایک سازش کے تحت پھنسایا جا رہا ہے اور وہ مکمل طور پر بے قصور ہیں۔ تاہم ضلع مجسٹریٹ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ سطحی جانچ کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔اب سب کی نظریں تحقیقات کے نتائج پر مرکوز ہیں، جو یہ طے کریں گے کہ رشوت خوری اور دھوکہ دہی کے الزامات میں کتنی سچائی ہے اور آیا اس معاملے میں کسی کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Home Secretary Unconditional Apology: کیا مرکزی داخلہ سکریٹری نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی؟ جانیے کیا ہے قانونی ضابطہ

توہینِ عدالت کے نوٹس کے جواب میں حلف نامے میں معافی کے ذکر سے متعلق…

56 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: کھیلو انڈیا اور اسپورٹس فیڈریشنز کو مضبوط بنانے کے لیے 36 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ مختص: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے میجر دھیان چند اسٹیڈیم میں ایشین گیمز 2026 کے بھارتی…

2 hours ago