قومی

Chief Justice at LAWASIA conference Hanoi: ’’عدالتی نظام میں شمولیت اور تنوع کو فروغ دینے کی ضرورت‘‘ لاوسیا کانفرنس سے چیف جسٹس بی آر گوئی کی اپیل

ہنوئی: چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے کہا ہے کہ انصاف کا حقیقی مفہوم تب ہی سامنے آتا ہے جب وہ معاشرے کے کمزور ترین طبقات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے وکلاء اور ججوں سے اپیل کی کہ وہ عدالتی نظام میں تنوع (Diversity) اور شمولیت (Inclusion) کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ چیف جسٹس گوئی نے یہ خطاب ہنوئی میں منعقدہ 38ویں لاوسیا (LAWASIA) کانفرنس سے ورچوئل خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کو انصاف، وقار اور مساوات کا آلہ بننا چاہیے۔

’’میرے اپنے سفر میں مساوات کی طاقت جھلکتی ہے‘‘

چیف جسٹس گوئی نے اپنی زندگی کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پسماندہ طبقے میں پیدا ہوئے، لیکن بھارتی آئین کی عدم امتیاز کی ضمانتوں نے انہیں تعلیم حاصل کرنے اور عدلیہ کے اعلیٰ عہدے تک پہنچنے کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا: ’’جب قانون انسان کی عزت نفس کا تحفظ کرتا ہے تو وہ کسی کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔‘‘

مساوات اور سماجی انصاف کی توسیع

چیف جسٹس گوئی نے گوتم بدھ، مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر بی آرامبیڈکر کی اخلاقی تعلیمات کو اپنی عدالتی فکر کی بنیاد قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو آئین کی تعبیر محض الفاظ میں نہیں بلکہ اس کی روح کے مطابق کرنی چاہیے تاکہ سماجی انصاف کا دائرہ وسیع ہو۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے چند اہم فیصلوں ریاست کیرالہ بمقابلہ این ایم تھامس، اندرا سہنی بمقابلہ یونین آف انڈیا اور بی کے پوترا بمقابلہ یونین آف انڈیا  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مساوات کا مطلب سب کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں بلکہ تاریخی ناانصافیوں کی اصلاح ہے۔

قانونی پیشے میں شمولیت کی شروعات

چیف جسٹس نے کہا کہ تنوع اور شمولیت کی شروعات خود قانونی پیشے سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لاء فرموں اور عدالتی انتظامیہ کو خواتین، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے لیے روزگار، رہنمائی (Mentorship) اور نمائندگی کے مساوی مواقع دینے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وکلا پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محروم طبقوں کے مؤکلوں کی نمائندگی کریں اور اپنے اداروں میں انصاف اور مساوات کا ماحول قائم کریں۔ انہوں نے کہا: ’’تنوع لوگوں کو ایک کمرے میں اکٹھا کرتا ہے، لیکن شمولیت یہ یقینی بناتی ہے کہ ہر آواز سنی اور سمجھی جائے۔‘‘

شمولیت محض علامتی نہیں ہونی چاہیے

چیف جسٹس گوئی نے بتایا کہ بطور چیف جسٹس انہوں نے سپریم کورٹ انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ تقرریوں میں مثبت اقدام (Affirmative Action) پالیسیوں پر حقیقی طور پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شمولیت محض نمائشی نہ ہو بلکہ اداروں کے ڈھانچے میں حقیقی تبدیلی لائے — یہ دیکھنے کے لیے کہ طاقت کس کے ہاتھ میں ہے اور کس کی کہانیاں سنی جا رہی ہیں۔ خطاب کے اختتام  میں چیف جسٹس نے عالمی عدالتی برادری سے کہا کہ وہ تنوع اور شمولیت کو محض نظریہ نہ سمجھیں۔ انہوں نے کہا: ’’جب ہم تنوع کو اپناتے ہیں، شمولیت کو برتتے ہیں اور مساوات کو برقرار رکھتے ہیں تو ہم تاریخ کے سائے سے نکل کر اس افق کی جانب بڑھتے ہیں جہاں ہر انسان سر اٹھا کر جی سکے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

1 hour ago

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

3 hours ago

Azamgarh triple murder: یوپی میں  دو پجاریوں، بیوی اور بیٹے کے قاتل کا انکاؤنٹر ہلاک، اعظم گڑھ میں 8 گھنٹے بعد یرغمالی ڈرامہ ختم

وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…

3 hours ago