نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کو منعقدہ مرکزی کابینہ کے اجلاس میں ‘سیمی کون 1.0’ کی کامیابی کے بعد ملک میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کے مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کی تعمیر کے لیے ‘سیمی کون 2.0’ اسکیم کو منظوری دے دی گئی۔ اس اہم منصوبے کے لیے 1,27,500 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اب تک 12 سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں ایک سلیکون فیب، ایک سلیکون کاربائیڈ فیب، ایک انٹیگریٹڈ گیلیم نائٹرائیڈ مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے فیب اور نو پیکیجنگ یونٹس شامل ہیں۔ یہ یونٹس صارفین کی الیکٹرانکس، صنعتی آلات، آٹوموبائل، پاور الیکٹرانکس، ٹیلی کمیونی کیشن، ایرو اسپیس سمیت متعدد شعبوں کی چپ ضروریات پوری کریں گے۔ حکومت نے بتایا کہ منظور شدہ 12 منصوبوں میں سے مائکرون، کیینس اور سی جی سیمی نے تجارتی پیداوار شروع کر دی ہے، جبکہ ایک اور یونٹ سے 2026 کے دوران پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے۔
بھارت کو عالمی سیمی کنڈکٹر مرکز بنانے کا ہدف
سرکار نے سیمی کنڈکٹر شعبے میں اسٹارٹ اپس اور چھوٹی و درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ اب تک 24 سیمی کنڈکٹر ڈیزائن منصوبوں کو مالی معاونت کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 105 اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کو جدید الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔ کابینہ کے مطابق ’سیمی کون 2.0‘ کا مقصد پہلی اسکیم سے حاصل ہونے والی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے بھارت کو عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت کا ایک اہم مرکز بنانا ہے۔ حکومت نے بتایا کہ نئی اسکیم چھ بنیادی ستونوں پر مبنی ہوگی۔ پہلا ستون چپ ڈیزائن ہے۔ حکومت کے مطابق 105 اسٹارٹ اپس پہلے ہی چپ ڈیزائن پر کام کر رہے ہیں۔ اب مقامی چپس، سسٹم ڈیزائن اور دانشورانہ املاک (آئی پی) کی تیاری کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ دوسرا ستون سیمی کنڈکٹر صنعت میں استعمال ہونے والی مشینوں، خام مال، کیمیکلز، گیسوں اور تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) سے متعلق کمپنیوں کی حوصلہ افزائی ہے، تاکہ ملک میں اعلیٰ معیار کی مینوفیکچرنگ کی مضبوط بنیاد رکھی جا سکے۔ تیسرا ستون نئی فیب یونٹس کے قیام سے متعلق ہے۔ حکومت کے مطابق ملک کی پہلی سیمی کنڈکٹر فیب کے 2028 تک کام شروع کرنے کی امید ہے، جبکہ بھارت کی سیمی کنڈکٹر حکمت عملی پر عالمی کمپنیوں کا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اے ٹی ایم پی، اوساٹ اور تحقیق پر خصوصی توجہ
چوتھا ستون اے ٹی ایم پی (ATMP) اور اوساٹ (OSAT) یونٹس کی توسیع ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت اب دنیا کے لیے متبادل مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، اس لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کو ملک میں لانے پر زور دیا جائے گا۔ پانچواں ستون تحقیق و ترقی ہے۔ حکومت کے مطابق اس وقت بھارت کی سیمی کنڈکٹر صنعت 28 نینو میٹر سے 110 نینو میٹر ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے، تاہم مستقبل میں ملکی اور بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے تعاون سے مزید جدید ٹیکنالوجی اور نئے نوڈز کی تیاری پر توجہ دی جائے گی۔ چھٹا اور آخری ستون ہنرمند افرادی قوت کی تیاری ہے۔ حکومت کے مطابق ملک کی 315 یونیورسٹیوں میں جدید ای ڈی اے ٹولز کے ذریعے چپ ڈیزائن کی تربیت دی جا رہی ہے اور اب تک 68 ہزار سے زائد طلبہ کو تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔ اب اس پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ کالج کی سطح پر ہی طلبہ کو عالمی معیار کی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی عملی تربیت حاصل ہو سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایشین گیمز 2026 میں اتوار کو بھارت کے کئی اہم مقابلے، خواتین کرکٹ ٹیم کی…
کسٹمز کی ایئر انٹیلی جنس یونٹ نے خفیہ اطلاع اور مسافروں کی پروفائلنگ کی بنیاد…
یوپی اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے سماج وادی پارٹی نے لکھنؤ میں اپنے دفتر کے…
سکندرآباد میں جنوبی وسطی ریلوے کے حکام نے بتایا، متعلقہ اہلکار کی شناخت تلنگانہ ریاستی…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جالھوپور میں واقع قومی فرانزک سائنس یونیورسٹی کا افتتاح بھی…
پی ایم مودی نے کہا، ’’میں آپ تمام نوجوان ساتھیوں اور آپ کے اہل خانہ…