قومی

Maulana Arshad Madani On Mumbai Train Blasts 2006 Case: جمعیۃ علماء ہند کوممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ مقدمہ میں ملی بڑی کامیابی، مولانا ارشد مدنی انصاف سے متعلق کہی یہ بڑی بات

 نئی دہلی: ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکے مقدمہ کا آج تاریخی فیصلہ بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے ظاہر کیا۔ 19 سالوں کے طویل انتظار کے بعد اس مقدمہ میں جبراً پھنسائے گئے مسلم نوجوانوں کو انصاف حاصل ہوا۔ عدالت نے خصوصی مکوکا عدالت کی جانب سے پانچ ملزمین احتشام قطب الدین صدیقی، کمال انصاری، فیصل عطاء الرحمن شیخ، آصف بشیر اور نوید حسین کو ملنے والی پھانسی کی سزا کو غیر قانونی قراردیا، اسی کے ساتھ ساتھ عدالت مکوکا عدالت سے سات ملزمین محمد علی شیخ، سہیل شیخ، ضمیر لطیف الرحمن، ڈاکٹر تنویر، مزمل عطاء الرحمن شیخ،ماجد شفیع، ساجد مرغوب انصاری کو ملنے والی عمر قید کی سزا کو بھی ختم کردیا یعنی کے ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں نچلی عدالت فیصلے کو غیر قانونی قراردیا اور اسے ملزمین کے حق میں تبدیل کردیا۔بامبے ہائی کورٹ دو رکنی خصوصی بینچ جسٹس اے ایس کلور اور جسٹس شیام سی چانڈک نے آج صبج ساڑھے نو بجے فیصلہ ظاہر کیا۔ عدالت نے ملزمین کی جانب سے حاصل کیئے گئے اقبالیہ بیان کو سرے سے خارج کردیا اور اسے غیر قانونی قراردیا، اسی طرح عدالت نے سرکاری گواہان کی گواہی کو بھی قبول کرنے سے انکار کردیا۔

جمعیۃعلماء مہاراشٹرکے لیگل سیل کی تاریخی کامیابی: مولانا ارشد مدنی

 جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو انصاف کو سربلندکرنے والا ایک فیصلہ قراردیتے ہوئے کہا کہ آج جو لوگ بے گناہ ثابت ہوئے ہیں، ان کے اہل خانہ کے لئے یہ ایک بڑا دن ہے، کیونکہ اس کے لئے انہیں 17  برس تک انتظارکرنا پڑا، یہ 19 برس انہوں نے امید اور نا امیدی کی جس اندوہناک اذیت میں گزارہوں گے، ہم اس کا تصوربھی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء مہاراشٹرکے لیگل سیل کی ایک اورتاریخی کامیابی ہے، کہ جب اس کے قانونی جدوجہد کے نتیجہ میں 12 ایسے لوگوں کو باعزت رہائی ملی ہے، جن میں 5 لوگوں کو پھانسی اور7 کو عمر قید کی سزاہوچکی تھی اس کے لئے ہم اپنے وکلاء کا شکریہ اداکرتے ہیں انہوں نے دن رات محنت کی اورعدالت میں ایسی مدلل بحث کی کہ استغاثہ کا ساراجھوٹ بے نقاب ہوگیا، مولانا مدنی نے کہا کہ اس فیصلہ سے ہماری اس بات کی ایک بارپھر تصدیق ہوگئی جو ہم برسوں سے کہتے آئے ہیں کہ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتارکرکے ان کی زندگیوں کو تباہ وبربادکرنا ایک بڑے کھیل کا حصہ ہے، ایسا کرکے نہ صرف بے گناہوں کوجیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچادیا جاتا ہے بلکہ اس کے ذریعہ ایک پوری قوم کو بدنام اوررسوابھی کیا جاتا ہے، ہم برسوں سے یہ مطالبہ بھی کرتے آئے ہیں کہ تفتیشی ایجنسیوں اورپولس کی جواب دہی طے کی جانی چاہئے، جب تک ایسا نہیں کیاجائے گا، نہ صرف دہشت گردی بلکہ دوسرے قوانین کی آڑمیں بھی بے گناہوں کی زندگیاں اسی طرح تباہ وبربادکی جاتی رہیں گی۔

مولانا ارشد مدنی نے فیصلے کو ادھورا قرار دیا

مولانا ارشد مدنی نے صاف لفظوں میں کہا کہ آج جو ملک کے سیاسی حالات ہیں اس میں پولس اورایجنسیوں کے لئے مسلمان آسان ٹارگیٹ ہے، لوکل ٹرین بم دھماکہ کے اس معاملہ پرممتازقانون داں، جمعیۃعلماء ہند کے وکیل اوراڑیسہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرلی دھرکا تبصرہ ہے کہ اس کیس میں جان بوجھ کرجانبدارانہ تفتیش کی گئی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں جہاں عوامی جذبات مشتعل ہوتے ہیں میڈیا ٹرائل کے ذریعہ کسی کو بھی مجرم بنادیا جاتاہے، پریس کانفرنس پہلے کی جاتی ہے ثبوت بعد میں تلاش کئے جاتے ہیں جسٹس مرلی دھرکا یہ تبصرہ ملک کے قانونی سسٹم کی اندرکی ساری کہانی بیان کردیتاہے مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ کسی طرح کی جواب دہی کے فقدان کے نتیجہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس بات کی مکمل چھوٹ مل جاتی ہے کہ وہ جس کو چاہے مجرم بنادے، نہ توان کا کوئی محاسبہ ہوگااورنہ ہی اس کے لئے ان سے کسی طرح کا کوئی سوال ہی ہوگا، انہوں نے کہا کہ اس چھوٹ نے انہیں بے لگام کردیا ہے جس کی بدترین مثال یہ معاملہ ہے کہ جب انصاف کے حصول میں 19 برس کا طویل عرصہ لگ گیا بے گناہ باعزت بری بھی ہوگئے مگر ان لوگوں سے کوئی بازپرس نہیں ہوئی جنہوں نے بارہ زندگیاں بربادکیں، اس کے لئے متاثرین کو کوئی معاوضہ بھی نہیں ملے گا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ہم اس فیصلہ کا تہ دل سے استقبال کرتے ہیں مگرہماری نظرمیں یہ انصاف ادھورا ہے جب تک جواب دہی طے نہیں کی جائے گی اوربے گناہوں کی زندگیاں تباہ کرنے والوں کوکوئی سزانہیں دی جائے گی، اس افسوسناک سلسلہ کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ قانون کی آڑمیں اسی طرح بے گناہوں کی زندگیوں سے کھلواڑ ہوتارہے گا اورملک کا میڈیا ایک مخصوص فرقہ کے خلاف پروپیگنڈہ مہم چلاکر اسے بدنام کرتارہے گا۔ مولانا مدنی نے آخرمیں کہا کہ بے قصورمسلمانوں کی زندگی سے کھلواڑکرنے والے آخرکہاں ہیں ان کے چہروں سے نقاب اٹھااب ضروری ہے، یہ صورت حال ملک میں مسلم اقلیتوں کے لئے بے حد پریشان کن ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ آج نہیں توکل حالات بدلیں گے اب وقت آگیا ہے کہ سپریم کورٹ کو اس پر ازخودسوموٹونوٹس لینا چاہئے انہوں نے اس بات پر بھی سخت برہمی کا اظہارکیا کہ نام نہاد قومی میڈیا اکثرمتعصب الکٹرانک میڈیا مسلمانوں کی گرفتاری کے وقت طوفان کھڑاکردیتاہے اوران کے خلاف ٹرائل شروع کردیتاہے، جب یہی لوگ عدالت سے باعزت بری ہوتے ہیں تومیڈیاکو سانپ سونگھ جاتاہے یہ جانبدارانہ رویہ صحافت کے پیشہ سے خیانت ہے۔

عدالت نے تمام 12 مسلم ملزمین کو بری کردیا
قابل ذکر ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمین کو فوراً جیل سے رہا کیا جائے اگر وہ کسی اور مقدمہ میں مطلوب نہیں ہیں تو یعنی کہ عدالت نے سال 2006 سے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ملزمین کی جیل سے رہائی کا راستہ صاف کردیا ہے۔ عدالت نے جیل میں انتقال کرنے والے کمال انصاری کو بھی مقدمہ سے بری کیئے جانے کا حکم جاری کیا، جس وقت جسٹس کلور مقدمہ کا فیصلہ پڑھ رہے تھے، پھانسی کی سزا پانے والے پانچوں ملزمین بھی بذریعہ آن لائن اسے دیکھ اورسن رہے تھے اور ان کے چہروں پر مایوسی جھلک رہی تھی لیکن جیسے فیصلہ ان کے حق میں آیا وہ ایکدم سے خوش ہوگئے اورعدالت اوران کا دفا ع کرنے والے وکلاء کا شکریہ ادا کیا۔سینئر ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری نے عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کے فیصلے سے عوام کا عدلیہ پراعتماد بڑھے گا، نیزقانون کی بالادستی قائم رہے گی۔ انہوں نے ملزمین کے حق میں بحث کرنے کے لیئے دفاعی وکلاء کو موقع دینے کے لیئے بھی شکریہ ادا کیا۔یوگ چودھری نے جذباتی انداز میں کہا کہ اس پورے مقدمہ کا اگر باریک بینی سے مشاہدہ کیاجائے تو پتہ چلتا ہے کہ ملزمین کے خلاف جھوٹے ثبوت و شواہداکھٹا کیئے گئے تھے جس کی آج عدالت نے تصدیق کردی۔ملزمین کے مقدمات کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کررہی ہے، آج کے فیصلے کا صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی خیر مقدم کیا اور ملزمین کی رہائی میں دن رات محنت کرنے والے وکلاء کا شکریہ ادا کیا، اس موقع پر انہوں نے مرحوم گلزار احمد اعظمی کو بھی یاد کیا اورکہا کہ اس مقدمہ کی پیروی گلزاراعظمی ملزمین کی گرفتاری کے وقت سے کررہے تھے، ان کے انتقال کے بعد اس ذمہ داری کو ہم نے سنبھالا اور جس نہج پرگلزاراعظمی پیروی کررہے تھے اسی نہج پر پیروی کرنے کی ہم نے بھی کوشش کی اور الحمداللہ آج فیصلہ ملزمین کے حق میں آیا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی نے ملزمین کے دفاع میں ملک کے نامورکریمنل وکلاء کی خدمات حاصل کی تھی جس میں سینئر ایڈوکیٹ ایس ناگا متھو (سبکدوش جسٹس مدراس ہائی کورٹ)، سینئر ایڈوکیٹ مرلی دھر (سبکدوش چیف جسٹس اڑیسہ ہائی کورٹ)، سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن(سپریم کورٹ آف انڈیا)، ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری و دیگر شامل ہیں شامل ہیں، سینئر وکلاء کی معاونت کرنے کے لیئے ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف،ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ گورو بھوانی، ایڈوکیٹ ادتیہ مہتا، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ بلال ودیگرکو ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔

مکوکا عدالت نے سنائی تھی سزا

واضح رہے کہ خصوصی مکوکا عدالت کے جج وائی ڈی شندے نے ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچ ملزمین احتشام قطب الدین صدیقی، کمال انصاری، فیصل عطاء الرحمن شیخ، آصف بشیراورنوید حسین کو پھانسی اور7 ملزمین محمد علی شیخ، سہیل شیخ، ضمیرلطیف الرحمن، ڈاکٹرتنویر، مزمل عطاء الرحمن شیخ،ماجد شفیع، ساجد مرغوب انصاری کوعمرقید کی سزا سنائی تھی جبکہ ایک ملزم عبدالواحد دین محمد کوباعزت بری کردیا تھا۔ ممبئی کی لائف لائن سمجھی جانی والی لوکل ٹرین کے ویسٹرن لائن پرسلسلہ واربم دھماکے ہوئے تھے جس میں 80 لوگوں کی موت ہوئی تھی جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Deendayal Upadhyaya Jayanti: دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر وزیر اعظم نریندر مودی کا پیغام، کہا- ’انتودیہ ہی قوم کی تعمیر کی بنیاد ہے‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کو خراجِ عقیدت پیش کیا، کہا-…

21 minutes ago

US Navy Uses Laser Weapons: گیمنگ کنٹرولر سے تباہ ہوں گے ایرانی ڈرون! آبنائے ہرمز میں امریکہ نے تعینات کیے ’غیر مرئی‘ لیزر ہتھیار

امریکی فوج ہائی انرجی لیزر ٹیکنالوجی کو حقیقی آپریشنز میں استعمال کر رہی ہے، ڈرونز…

31 minutes ago

Accidents on the Yamuna Expressway: آخر یمنا ایکسپریس وے کو حادثات کا ہائی وے کیوں کہا جاتا ہے؟

یمنا ایکسپریس وے پر مسلسل پیش آ رہے حادثات نے بڑھائی تشویش، گریٹر نوئیڈا میں…

1 hour ago

Akhilesh Yadav PDA Rath Yatra: رائے بریلی سے اکھلیش نے نکالی پی ڈی اے رتھ یاترا، سماج وادی پارٹی-کانگریس اتحاد کی تازہ صورتحال

2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اکھلیش یادو نے کانگریس کے مضبوط علاقے…

2 hours ago