قومی

Bomb Threat Emails: عدالتوں پر ’بم‘ کا سایہ: لکھنؤ سے کولکاتا تک کورٹ کمپلیکس اڑانے کی دھمکی، ای میل سے سنسنی

ملک کے عدالتی نظام کے اہم مراکز میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب اتر پردیش اور مغربی بنگال کی متعدد عدالتوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ لکھنؤ سول کورٹ، آگرہ دیوانی عدالت اور کولکاتا کی عدالتوں کو ای میل کے ذریعے نشانہ بنانے کی وارننگ دی گئی۔ ان دھمکیوں کے بعد سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ موڈ پر آ گئی ہیں اور عدالتی احاطوں میں سخت تلاشی مہم جاری ہے۔

چھاؤنی میں تبدیل ہوا سول کورٹ

دارالحکومت لکھنؤ کے وزیرگنج تھانہ علاقے میں واقع سول کورٹ کو ایک بار پھر بم سے اڑانے کی دھمکی ملی ہے۔ دھمکی آمیز ای میل موصول ہوتے ہی مقامی پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ موقع پر پہنچ گئے۔ بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں پورے عدالتی احاطے کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ عدالت میں موجود وکلا اور سائلین کے درمیان افرا تفری کا ماحول دیکھنے میں آیا۔ پولیس فی الحال ای میل کے ذرائع کی جانچ کر رہی ہے۔

دیوانی کمپلیکس میں سخت سکیورٹی انتظامات

تاج نگری آگرہ میں بھی دیوانی سیشن عدالت کی سرکاری ای میل آئی ڈی پر اسی نوعیت کا دھمکی آمیز پیغام موصول ہوا۔ اطلاع ملتے ہی اے سی پی ہری پروت اور تھانہ نیو آگرہ کی پولیس فورس دیوانی احاطے پہنچ گئی۔ سکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے آنے جانے والے ہر شخص کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

کولکاتا ہائی کورٹ اور ضلعی عدالت نشانے پر

عدالتوں کو دی جانے والی یہ دھمکیاں صرف اتر پردیش تک محدود نہیں رہیں۔ مغربی بنگال میں کلکتہ ہائی کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے کے بعد احاطے کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا۔

مغربی بردھمان ضلع عدالت میں صورتحال مزید سنگین رہی، جہاں ججوں کے نام بھیجی گئی ایک ای میل میں عدالت کے احاطے اور ججوں کے چیمبرز میں 15 آر ڈی ایکس بم دھماکوں کی دھمکی دی گئی۔ اس سنسنی خیز پیغام کے بعد پورے ضلع میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور بم ڈسپوزل ٹیم ہر مقام کی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے۔

سائبر نگرانی پر سنگین سوالات

عدالتوں کو مسلسل ملنے والی ان دھمکیوں نے سکیورٹی نظام اور سائبر نگرانی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ ابتدائی تحقیقات میں اکثر ایسی دھمکیاں شرارتی عناصر کی جانب سے ماحول خراب کرنے کی کوشش یا فرضی پیغام ثابت ہوتی ہیں، تاہم سکیورٹی ایجنسیاں اسے نظر انداز کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتیں۔ انصاف کے مراکز کو نشانہ بنانے کی یہ کوشش نہ صرف عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالتی ہے بلکہ عوام اور وکلا میں خوف و ہراس بھی پیدا کرتی ہے۔ اب پولیس اور سائبر سیل کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان ای میلز کے اصل ماسٹر مائنڈ تک پہنچنا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

3 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

5 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

5 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

6 hours ago