برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن یعنی بی ایم سی ہندوستان کا سب سے امیر شہری ادارہ ہے۔ سال 2025-26 کے لیے بی ایم سی نے 74427 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا تھا لیکن سال 2014 سے پہلے اسی بی ایم سی میں بدعنوانی کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ اس کا تصور کرنا مشکل تھا۔ بی ایم سی میں، بلڈروں کو اپنے پروجیکٹوں کو پاس کروانے کے لیے رشوت دینے کے لیے ایک مناسب ریٹ لسٹ موجود تھی۔ اس فہرست میں لکھا تھا کہ فائل کو آگے بڑھانے کے لیے کس چیز کے تحت کتنی رشوت دینی پڑے گی۔
ریٹ لسٹ کا موجودہ حکومت سے کوئی تعلق نہیں
یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ 24 اکتوبر 2014 کو ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک خبر میں اس کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ اس خبر میں سرخی دی گئی تھی ’’“Builders plan to meet babus, Seek cut in bribe rates’.‘‘۔ لوگ اکثر اس خبر کو سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق حکومت اور بی ایم سی کو نشانہ بناتے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے حکومت اور بی ایم سی کے ساتھ ایک بار پھر ریٹ لسٹ زیر بحث ہے حالانکہ اس کا موجودہ حکومت اور بی ایم سی کے میئرسے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
سنیل پربھو بی ایم سی کے میئر تھے
آپ کو بتاتے چلیں کہ اخبار کی اس کٹنگ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرکے موجودہ حکومت اور بی ایم سی کو ٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن یہ اخباری کٹنگ اس وقت کی ہے جب سنیل پربھو بی ایم سی کے میئر تھے۔ اس وقت وہ غیر منقسم شیوسینا کے لیڈر تھے۔ فی الحال سنیل پربھو ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا پارٹی سے ڈنڈوشی اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے ہیں۔
جب یہ ریٹ لسٹ جاری کی گئی تو مہاراشٹر میں صدر راج نافذ تھا۔ اس سے پہلے کانگریس کی حکومت تھی اور پرتھوی راج چوہان وزیراعلیٰ تھے۔ ریٹ لسٹ کے مطابق، پروجیکٹ کو پاس کروانے کے لیے بلڈرز کو بی ایم سی کو لاکھوں روپے رشوت کے طور پر ادا کرنے پڑتے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…