کسان لیڈر نریش ٹکیٹ کے بیان پر سوال اٹھنے کے بعد راکیش ٹکیٹ نے صفائی دی ہے۔
BKU Leader Naresh Tikait on Pahalgam Terror Attack: بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے قومی صدرنریش ٹکیٹ نے حال ہی میں جموں وکشمیرکے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے اورہندوستان-پاکستان کے درمیان پانی تنازعہ پر بڑا بیان دے دیا ہے، جو بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ پہلگام حملے کے بعد ہندوستانی حکومت نے سندھوآبی معاہدہ کومنسوخ کرنے کا فیصلہ لیا، لیکن نرینش ٹکیٹ اس بیان کے بعد سے سرخیوں میں ہیں۔ نریش ٹکیٹ نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے لئے پورے پاکستان کو قصوروارٹھہرانا مناسب نہیں ہے۔ پاکستان میں کچھ لوگ دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں کی پوری عوام غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پانی روکنا غلط ہے، کسان چاہے ہندوستان کا ہویا پاکستان کا، پانی بند ہونے سے اس کا نقصان ہوگا۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے پرنریش ٹکیٹ نے کہا کہ پورا ملک اوردنیا اس دہشت گردانہ حملے کی مخالفت کررہی ہے کہ ایسے حادثات نہیں ہونے چاہئے تھے۔ وہیں اس معاملے میں پاکستان کے کردارکے سوال پرنریش ٹکیٹ نے کہا کہ اس حملے میں پورے پاکستان کوہم قصوروار نہیں مانتے ہیں۔ سندھوآبی معاہدہ کو منسوخ کرنے اور پاکستان کا پانی روکنے پرانہوں نے کہا کہ ہم اس فیصلے کی حمایت نہیں کرتے۔ کیونکہ غلطی 5-4 لوگ کریں اوراس کا نقصان لاکھوں کو بھگتنا پڑے، یہ صحیح نہیں ہے۔
وہیں، نریش ٹکیٹ نے حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی میں چوک کیوں ہوئی اوردہشت گرد وہاں کیسے آگئے۔ حکومت نے فوج میں بھی کٹوتی کردی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، یہ صحیح ہے۔ کیونکہ یہ توکسی بھی مذہب میں ہوسکتے ہیں۔ حالانکہ اس معاملے پرحکومت کوسخت فیصلہ لینا چاہئے۔ اس وقت ملک میں سبھی مذاہب کے لوگ متحد ہیں، مسلم سماج بھی شرمندگی میں ہے۔
پورے ملک میں مخالفت، پرویش ورما نے اٹھایا سوال
دہلی کے نائب وزیراعلیٰ پرویش سنگھ ورما نے نریش ٹکیٹ کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ”جو لوگ پاکستان کے کسانوں کی فکر رہے ہیں، وہ نہ ہندوستان کے سچے شہری ہیں اورنہ کسانوں کے سچے ہمدرد ہیں۔“ انہوں نے ٹکیٹ برادران کوملک مخالف قراردیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ”اگرپاکستان سے اتنی ہمدردی ہے، تو ہندوستان چھوڑکرپاکستان چلے جائیں۔“
راکیش ٹکیٹ نے کیا بھائی نریش ٹکیٹ کا بچاؤ
ہریانہ کے کرنال میں راکیش ٹکیٹ نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ نریش ٹکیٹ کے بیان کوتوڑمروڑکرپیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح طورپرکہا، ”ہم حکومت اورفوج کے ساتھ ہیں۔ سخت فیصلے لئے جائیں، ہم حمایت میں رہیں گے۔ میڈیا کے سوالوں کے جواب میں انہوں نے کچھ کہا، اس کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔“
اب کسان تنظیموں میں اختلافات کی خبریں
اس بیان کے بعد مختلف کسان تنظیموں میں اختلافات ابھرتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ کئی تنظیموں نے نریش ٹکیٹ کے بیان سے دوری بنالی ہے اوراسے ملک کے مفاد کے خلاف بتایا ہے۔ وہیں کچھ کسان لیڈراب بھی ٹکیٹ برادران کے ساتھ ہیں۔ سندھوآبی معاہدہ جیسے حساس موضوع پربیان بازی نے ایک بارپھردکھا دیا ہے کہ الفاظ کا انتخاب کتنا ہے۔ نریش ٹکیٹ کے بیان نے جہاں انہیں زبردست مخالفت کا سامنا کروایا۔ وہیں راکیش ٹکیٹ کی صفائی سے معاملہ کچھ حدتک تھم گیا ہے۔ حالانکہ اس معاملے پرپورا ملک پاکستان کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔
اردو زبان کی ترویج اور اس کے فروغ کے لیے خدمات اور خصوصی تعاون پر…
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ…
22 ستمبر سے نئی دہلی میں اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کے سربراہان کی تیسری قومی…
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی، غیر…
گمبھیر نے ملاقات کو انتہائی خوشگوار قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر…
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی کارروائی، مرکزی ملزم سمیت 5…