قومی

Kabindra Purkayastha passes away, PM Modi expresses grief: بی جے پی کے بزرگ لیڈر کبندر پرکایسٹھ نہیں رہے، وزیر اعظم مودی نے کیا افسوس کا اظہار؛ کہا – ’آسام کی ترقی کے ستون تھے‘

مشرقی شمالی بھارت میں بی جے پی  کے بزرگ لیڈر کبندر پرکایسٹھ کا سلچر میڈیکل کالج اور اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ وہ 94 سال کے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کبندر پرکایسٹھ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ اسی کے ساتھ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے بھی ردِ عمل دیا۔ وزیر اعظم مودی نے کبندر پرکایشٹھ کے انتقال پر کہا کہ ان کی سماجی خدمات اور آسام کی ترقی میں کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال سے گہرا دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر کبندر پرکایشٹھ کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’’سابق رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر کبندر پرکایشٹھ کے انتقال سے گہرا دکھ ہوا ہے۔ سماجی خدمت کے لیے ان کی وابستگی اور آسام کی ترقی میں ان کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے ریاست بھر میں بی جے پی  کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دکھ کی گھڑی میں میری ہمدردیاں ان کے خاندان اور مداحوں کے ساتھ ہیں۔‘‘

 اسی دوران، آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کبندر پرکایشٹھ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا کہ وہ ایک باصلاحیت مفکر اور وقف شدہ کارکن تھے۔ وہ خود ایک ادارہ تھے، جنہوں نے اس خطے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیاد رکھی اور اسے آسام میں لوگوں کی پسندیدہ پارٹی بنانے میں مدد کی۔ سلچر کی گلیوں سے پارلیمنٹ کے ہالوں تک، مہم چلانے کے دنوں سے لے کر مرکزی وزیر بننے تک، انہوں نے ہمیشہ لوگوں اور ان کے مسائل کو اولین ترجیح دی۔ انہوں نے آسام اور شمال مشرقی بھارت کے مفادات کی حفاظت کے لیے مختلف فورمز پر مسلسل کام کیا۔

آسام کے وزیرِ اعلیٰ نے آگے لکھا کہ ہم کارکنوں کے لیے وہ صرف عوام کے نمائندے ہی نہیں تھے، بلکہ ایک رہنما، بڑے بھائی اور قابل اعتماد ساتھی بھی تھے۔ انہوں نے دکھایا کہ سیاست میں قدر، سادگی، خدمت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا سب سے اہم ہے۔ ان کے جانے سے ایک ایسی جگہ خالی ہو گئی ہے، جسے کوئی پر نہیں کر سکتا۔ مرکزی وزیر سروانند سونووال نے کبندر پرکایشٹھ کے انتقال پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا کہ وہ بھاجپا کے سچے ستون تھے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی تنظیم کو زمینی سطح سے مضبوط کرنے اور نہایت اخلاص کے ساتھ خدمت کے لیے وقف کر دی۔ میرے جیسے ہزاروں کارکنوں کے لیے ان کا سفر اور رہنمائی ہمیشہ حوصلہ اور تحریک کا ذریعہ رہے۔ وہ حوصلہ، عقیدت اور رہنمائی کا سرچشمہ تھے اور میرے لیے ایک باپ جیسا مقام رکھتے تھے۔

انہوں نے آگے لکھا کہ ان کا انتقال ایک ذاتی نقصان ہے اور اس نے اسام کی سیاست میں ایک ایسا خلا چھوڑا ہے جسے پر کرنا مشکل ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Third BIMSTEC Conference: بِمسٹیک کی روایتی طب، جینیاتی وسائل اور دانشورانہ املاک کے حقوق پر تیسری کانفرنس گوا میں شروع

بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…

36 minutes ago

Bharat Express Urdu National Conclave: بزمِ صحافت: نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ، بھارت ایکسپریس اردو  کا نیشنل کانکلیو

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…

2 hours ago

Punjab Turban Row: پنجاب میں ’پگڑی‘ پر گھمسان تو یوپی میں کانگریس کی نئی بریگیڈ تیار! جانیے 5 ریاستوں کے انتخابات سے پہلے کیا ہے ہلچل؟

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…

3 hours ago

Special Parliament Session: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی تیاری؟ حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر ہو سکتا ہے بڑا فیصلہ

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…

4 hours ago

UP Politics: یونیفارم بدلی، رنگ بدلا، کیا بدلے گی قسمت؟ اتر پردیش کی سیاست میں ہلچل پیدا کرنے آیا اکھلیش کا نیا روپ

اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے اپنی روایتی ’لال ٹوپی‘ کے ساتھ ’نیلا رنگ‘…

5 hours ago