نئی دہلی: سال 2025 بھارتی سیاست کی تاریخ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی قیادت میں این ڈی اے کے لیے غیر معمولی کامیابیوں کا سال ثابت ہوا ہے۔ دہلی کی اقتدار واپسی سے لے کر بہار میں زبردست انتخابی جیت اور اب جنوبی بھارت میں تاریخی پیش رفت تک، بی جے پی نے ایسی سیاسی برتری قائم کی ہے جس نے حزبِ اختلاف کی حکمت عملیوں کو کمزور کر دیا ہے۔ سال کے اختتام تک آتے آتے بی جے پی نہ صرف شمالی اور مشرقی بھارت میں بلکہ جنوبی بھارت میں بھی اپنی موجودگی مضبوط کرنے میں کامیاب نظر آئی۔
سال 2025 کی سب سے اہم سیاسی پیش رفت جنوبی بھارت میں دیکھنے کو ملی، جہاں کیرالہ کے بلدیاتی انتخابات نے بی جے پی کے لیے نئے دروازے کھول دیے۔ ترواننت پورم میونسپل کارپوریشن میں تاریخی کامیابی حاصل کرکے بی جے پی نے بائیں بازو کی جماعتوں کے مضبوط قلعے میں نقب لگائی۔ سیاسی مبصرین اس کامیابی کو کیرالہ کی سیاست میں ایک ”واٹرشیڈ لمحہ“ قرار دے رہے ہیں۔ یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ کیرالہ اور تمل ناڈو جیسے جنوبی ریاستوں میں جلد ہی اسمبلی انتخابات متوقع ہیں، جہاں بی جے پی کو اب تک براہِ راست بڑی انتخابی جیت حاصل نہیں ہو سکی تھی۔
جنوبی بھارت کی اس پیش رفت سے قبل، بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی قیادت والے این ڈی اے نے شاندار جیت درج کی۔ اکتوبر اور نومبر 2025 میں منعقد ہونے والے ان انتخابات میں ہر طبقے، ہر خطے اور تقریباً ہر اہم سیاسی مسئلے پر این ڈی اے کی مضبوط گرفت نظر آئی۔ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ریاست میں ان کی سیاسی جڑیں گہری ہو چکی ہیں۔ این ڈی اے نے مجموعی طور پر 200 سے زائد نشستیں جیت کر مسلسل دوسری بار یہ ہدف حاصل کیا۔
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2010 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بہار میں این ڈی اے نے اس سطح کی کامیابی دہرائی ہو۔ 2025 میں بی جے پی نے 89 اور جنتا دل (یونائیٹڈ) نے 85 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ دیگر اتحادی جماعتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس انتخابی طوفان میں راشٹریہ جنتا دل کی نشستیں تقریباً نصف رہ گئیں، جبکہ کانگریس محض انگلیوں پر گنی جانے والی نشستوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔ بی جے پی نے 2025 کی شروعات دہلی میں تاریخی کامیابی کے ساتھ کی تھی۔ 27 برسوں کے طویل وقفے کے بعد دہلی میں بی جے پی کی حکومت بنی۔ اس سے قبل 1993 میں پارٹی نے دہلی اسمبلی انتخابات جیتے تھے، مگر اس کے بعد مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ 2014 اور 2019 کی ’مودی لہر‘ کے باوجود بھی دہلی بی جے پی کی پہنچ سے دور رہا۔ تاہم 2025 میں پارٹی نے 70 رکنی اسمبلی میں 48 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی اور اقتدار میں واپسی کی۔
اسی سال نائب صدر کے انتخاب نے بھی این ڈی اے کے سیاسی غلبے کو مزید مضبوط کیا۔ جگدیپ دھنکھڑ کے اچانک استعفے کے بعد اگست میں ہونے والے نائب صدارتی انتخاب میں این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن نے حزبِ اختلاف کے امیدوار بی سدرشن ریڈی کو شکست دی۔ مجموعی طور پر سال 2025 بی جے پی اور این ڈی اے کے لیے سیاسی استحکام، عوامی حمایت اور تاریخی فتوحات کی علامت بن کر ابھرا، جس کے اثرات آنے والے برسوں کی سیاست پر بھی واضح طور پر نظر آئیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…
کوسل مینڈس 99 رنز کے اسکور پر آؤٹ قرار دیے گئے تھے۔ 31ویں اوور میں…
آئی ایم ڈی کے مطابق، 25 ستمبر کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت…
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…