قومی

Supreme Court VS BJP MP Nishikant Dubey: سپریم کورٹ کے خلاف بیان بازی، جمہوریت اور عدلیہ کے لئے انتہائی خطرناک

نئی دہلی: بی جے پی کے سینئررکن پارلیمنٹ ڈاکٹرنشی کانت دوبے کے ذریعہ سپریم کورٹ سے متعلق دیئے گئے متنازعہ بیان کے بعد  معاملہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے کے خلاف توہین عدالت کی عرضی درج کرلی ہے۔ عرضی میں الزام ہے نشی کانت دوبے نے سپریم کورٹ کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کیا ہے۔ اس عرضی کوسابق آئی پی ایس افسر اور آزاد ادھیکارسینا کے قومی صدرامیتابھ ٹھاکرنے دائرکیا ہے۔ نشی کانت دوبے کے علاوہ بی جے پی کے راجیہ سبھا ایم پی ڈاکٹردنیش شرما  نے بھی  سپریم کورٹ پرسوال اٹھایا تھا۔

نشی کانت دوبے اوردنیش شرما کے بیان پرایک طرف اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے کواٹھا رہی ہیں اوربی جے پی پرسوال اٹھا رہی ہیں تو دوسری طرف بی جے پی نے نشی کانت دوبے کے بیان سے خود کوالگ کرلیا ہے۔ بی جے پی چیف جے پی نڈا نے نشی کانت کے بیان کوان کا ذاتی بیان قراردیتے ہوئے کہا کہ ہم اس سے بالکل متفق نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ کے رجسٹری کے ذریعہ ایم پی نشی کانت دوبے کے خلاف کرمنل کنٹمپٹ  پٹیشن درج کی گئی۔ سپریم کورٹ کی رجسٹری نے سابق آئی پی ایس افسراورآزاد ادھیکارسینا کے قومی صدرامیتابھ ٹھاکر کے ذریعہ سپریم کورٹ میں  نشی کانت دوبے کے خلاف داخل کرمنل کنٹمپٹ عرضی کوابتدائی طورپرقبول کرکے اسے ڈائری  نمبر 2025/21177 کے طورپردرج کرلیا ہے۔

 

بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ کے الزم پر اے آئی ایم آئی ایم چیف اسدالدین اویسی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم مودی کو عدالتوں کو دھمکی دینے والوں کو روکنا چاہئے۔ وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے مرکزی حکومت  پر سپریم کورٹ کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ سپریم کورٹ میں بنگال کے مرشدآباد تشدد معاملے پر سماعت کے دوران جسٹس بی آر گوئی نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ  ہم اسے لاگو کرنے کے لئے صدرجمہوریہ یا پریسیڈنٹ کو حکم جاری کریں۔ ویسے بھی ہم پر ایگزیکٹیو میں مداخلت کا الزام لگ رہے ہیں۔ مطلب واضح ہے کہ بی جے پی ایم پی کی طرف سے جو بیان دیا گیا ہے، اس پر سپریم کورٹ کی پوری نظر ہے اور وہ اس سے مطمئن بھی نہیں ہیں۔

آپ کو بتادیں کہ بی جے پی ایم نشی کانت دوبے نے کہا تھا کہ اگرسپریم کورٹ تمام فیصلے لیتا ہے تو پارلیمنٹ بند کردینی چاہئے۔ سپریم کورٹ کا ایک ہی مقصد ہے، مجھے چہرہ دکھاؤ اور میں تمہیں قانون دکھاؤں گا۔ سپریم کورٹ اپنی حدوں سے باہر جا رہا ہے، اگر ہر بات کے لئے سپریم کورٹ جانا پڑتا ہے تو پارلیمنٹ یا ریاستی اسمبلی کو بند کردینا چاہئے۔ بہرحال سپریم کورٹ سے متعلق جو بھی بیان سامنے آیا ہے اور کوئی بھی ایسا بیان دے، اس کو قبول نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہ ہماری عدالت اور جمہوریت دونوں کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

PM Modi slams Congress: کانگریس حکومتوں نے نکسلزم کو لاعلاج مرض سمجھ کر نظر انداز کیا: وزیراعظم مودی

وزیراعظم بستر میں سلامتی اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے…

2 minutes ago

Diwali Bonus 1 Lakh: ایسا ہو تو کمپنی مالک! تہوار پر تھالی میں سجاکر ملازمین کو دیے ایک ایک لاکھ روپے، ویڈیو وائرل

سورت کے کپڑا تاجر نے دیوالی پر 20 ملازمین کو دیا ایک ایک لاکھ روپے…

2 hours ago

Delhi-NCR Turns into a Gas Chamber: دہلی-این سی آر گیس چیمبر میں تبدیل، دیوالی کی رات تک مزید خراب ہوں گے حالات، اہم شہروں کا اے کیو آئی

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ہفتے کی شام پٹاخے پھوڑنے کا سلسلہ شروع ہونے…

2 hours ago