قومی

BJP accuses TMC MP: راگھو چڈھا پر تبصرہ سیاسی تنازع میں تبدیل، بی جے پی کا سیانی گھوش پر سکھ و پنجابی برادری کی توہین کا الزام

کولکاتا: بی جے پی نے منگل کے روز ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ سیانی گھوش کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے ایک بیان کے ذریعے سکھ اور پنجابی برادری کی توہین کی ہے۔ یہ تنازع ایک ویڈیو کلپ کے بعد سامنے آیا، جسے بی جے پی کی مغربی بنگال یونٹ نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیا۔ ویڈیو میں سیانی گھوش کو مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنا گیا: ’’چڈھا، چڈی بن سکتا ہے‘‘ جو کہ راگھو چڈھا کے حوالے سے کہا گیا، جنہوں نے حال ہی میں عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ یہ جملہ نہ صرف ایک سیاسی طنز تھا بلکہ اس میں سکھ اور پنجابی شناخت کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

بی جے پی کا سخت ردعمل

بی جے پی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے ریمارکس ناقابل قبول ہیں اور ووٹروں کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے، خاص طور پر جب ریاست میں انتخابات کا ماحول ہے۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا: ’’سال بھر آپ کی برادری کی توہین کی جاتی ہے اور انتخابات سے پہلے ووٹ مانگنے آجاتے ہیں۔‘‘ بی جے پی نے اسے مغربی بنگال میں ’’شمولیتی اقدار‘‘ کے خلاف قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے بیانات کو ذہن میں رکھ کر ووٹ دیں۔

انتخابات سے پہلے سیاسی ماحول گرم

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 29 اپریل کو ہونے والی ہے، جس میں باقی 142 نشستوں پر پولنگ ہوگی۔ پہلے مرحلے میں ریکارڈ 93 فیصد سے زائد ووٹنگ درج کی گئی، جس کے بعد دونوں بڑی جماعتیں بی جے پی اور ٹی ایم سی اپنی جیت کے دعوے کر رہی ہیں۔ انتخابی ماحول میں اس طرح کے بیانات سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا رہے ہیں اور مختلف جماعتیں ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کر رہی ہیں۔

راگھو چڈھا کی شمولیت بھی موضوع بحث

ادھر راگھو چڈھا سمیت سات راجیہ سبھا ممبران نے حال ہی میں عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے، جس کے بعد راجیہ سبھا میں بی جے پی کی طاقت بڑھ کر 113 ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت کو عام آدمی پارٹی کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ایوان بالا میں اس کی تعداد اب کم ہو کر صرف تین ارکان رہ گئی ہے۔

کب آئیں گے الیکشن کے نتائج؟

مغربی بنگال سمیت دیگر ریاستوں کے انتخابی نتائج 4 مئی کو جاری کیے جائیں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، موجودہ بیانات اور تنازعات انتخابی مہم پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور ووٹرز کے رجحان کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سیانی گھوش کے بیان پر شروع ہونے والا یہ تنازع صرف ایک سیاسی بیان تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے شناخت، برادری اور انتخابی سیاست کے حساس پہلوؤں کو بھی اجاگر کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کا انتخابی نتائج پر کیا اثر پڑتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India-Maldives Relations: ہندوستان نے مالدیپ کی 30 ارب روپے کی کرنسی سویپ سہولت میں توسیع کی درخواست کو دی منظوری

ہندوستان نے مالدیپ حکومت کی 30 ارب روپے کی کرنسی سویپ سہولت میں توسیع کی…

11 minutes ago

Preeti Shekhar Slams Prashant Kishor: ’اپنی اوقات میں رہیے پرشانت کشور‘، بی جے پی کی جنرل سکریٹری پریتی شیکھر کا پی کے پر سخت حملہ

وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے متعلق بیان پر بہار کی سیاست گرم، ڈاکٹر پریتی شیکھر…

30 minutes ago

Mamata Banerjee’s statement: ابھجیت دیپکے کو حراست میں لیے جانے پر ممتا بنرجی بولیں، ’گھبراؤ مت، ابھی دیدی آپ کے ساتھ ہے‘

ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’دہلی پولیس…

2 hours ago

Union Home Minister Amit Shah: پنجاب میں منشیات اور گینگسٹر ازم پر گھری ’عآپ‘ حکومت، وزیر داخلہ امت شاہ نے قانون و انتظام پر اٹھائے سوالات

پنجاب میں منشیات کے کاروبار، گینگسٹر ازم اور بڑھتے جرائم کو لے کر سیاسی گھمسان…

2 hours ago