قومی

Bikram Singh Majithia Granted Bail: شیرو‌منی اکالی دل کے لیڈر بکرم سنگھ مجیتھیا کو سپریم کورٹ سے راحت، بدعنوانی کے معاملے میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ سے شیرو‌منی اکالی دل کے رہنما بکرم سنگھ مجیتھیا کو بڑی راحت مل گئی ہے۔ عدالت نے انہیں کچھ شرائط کے ساتھ ضمانت دے دی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ بکرم سنگھ مجیتھیا آمدنی سے زائد اثاثوں کے معاملے میں نا بھا جیل میں قید ہیں۔

گزشتہ سماعت کے دوران وکرم مجیتھیا کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ایس مرلی دھر نے عدالت کو بتایا تھا کہ منشیات کے معاملے میں ضمانت ملنے کے بعد مجیتھیا کے خلاف پی سی ایکٹ کے تحت دوبارہ مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے مجیتھیا کو منشیات کیس میں تفتیش کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔ مجیتھیا کی طرف سے پیش وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں سیاسی وجوہات کی بنا پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ جسٹس مہتا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم انہیں چنڈی گڑھ جیل منتقل کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں، اس میں کیا مسئلہ ہے؟ اس سے پہلے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے بدعنوانی کے معاملے میں ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

بدعنوانی کے معاملات میں مجیتھیا کے خلاف نگرانی بڑھا دی گئی

ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے مالی لین دین، کمپنیوں کا پیچیدہ جال اور غیر ملکی ذرائع سے آنے والی مشتبہ رقم سنگین اقتصادی جرائم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ عدالت نے تین ماہ کے اندر تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ مجیتھیا کے خلاف 25 جون کو موہالی میں ویجیلنس بیورو نے بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ یہ ایف آئی آر 2021 کے این ڈی پی ایس معاملے کی جانچ کے دوران قائم کی گئی ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر درج کی گئی تھی۔

مجیتھیا کی مبینہ 540 کروڑ روپے کی جائیداد کی جانچ جاری

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مجیتھیا اور ان کی اہلیہ کے پاس مبینہ طور پر 540 کروڑ روپے سے زائد کی مشتبہ جائیداد ہے۔ وہیں مجیتھیا کے خلاف دسمبر 2021 میں منشیات کے معاملے میں الزامات عائد کیے گئے تھے۔ جنوری 2022 میں انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا، تاہم اگست 2022 میں انہیں ضمانت مل گئی۔ مجیتھیا تقریباً ساڑھے پانچ ماہ تک جیل میں رہے۔ مجیتھیا کا کہنا ہے کہ جس منشیات کیس میں ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، اس میں نہ تو کسی قسم کی برآمدگی ہوئی ہے اور نہ ہی ساڑھے پانچ ماہ جیل میں رہنے کے باوجود پولیس اب تک چارج شیٹ داخل کر سکی ہے۔مجیتھیا پر الزام ہے کہ کینیڈا میں مقیم منشیات اسمگلر ستپریت ستا مجیتھیا کی امرتسر اور چنڈی گڑھ میں واقع سرکاری کوٹھیوں میں قیام کرتا رہا۔ یہاں تک کہ مجیتھیا نے اسے گاڑی اور گن مین تک فراہم کر رکھا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Afzal Ansari Arms Licence Case: افضل انصاری کو الہ آباد ہائی کورٹ سے راحت، اسلحہ لائسنس منسوخی کا معاملہ دوبارہ کمشنر کے پاس پہنچا

یوپی نیوز: غازی پور کے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کے تین اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے…

3 hours ago

UP Panchayat Election: یوپی پنچایت انتخابات پر الہ آباد ہائی کورٹ کا بڑا حکم، 3 ماہ کے اندر ووٹنگ کرانے کی ہدایت

اتر پردیش میں تین سطحی پنچایت انتخابات کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ نے…

3 hours ago