Bihar Voter List Revision Latest Update: بہار میں ووٹر لسٹ پرنظرثانی کے سلسلے میں ایک بڑا اپ ڈیٹ سامنے آیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ووٹرلسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، ایس آئی آرآرڈرکے پیرا 7(5) کے تحت، کسی بھی ووٹرکویکم اگست سے یکم ستمبرتک کا وقت ملے گا تاکہ وہ اپنا نام ووٹرلسٹ میں شامل کرسکے۔ کسی بھی تسلیم شدہ سیاسی پارٹی کوووٹرلسٹ میں کسی بھی اہل ووٹرکا نام شامل کروانے کے لیے ایک ماہ کا وقت بھی ملے گا۔ اگرنام کوبی ایل او/بی ایل اے نے چھوڑدیا ہے یا اگرنام غلط طورپرشامل کیا گیا ہے، توایک ماہ کے اندرنام شامل یا درست کیا جا سکتا ہے۔
آپ کوبتا دیں کہ بہارمیں اسمبلی انتخابات ستمبر-اکتوبر2025 میں تجویزکئے گئے ہیں، لیکن انتخابات سے عین قبل، الیکشن کمیشن بہارمیں ووٹرلسٹ پرنظرثانی 2025 (اسپیشل انٹینسیورویزن-ایس آئی آر) کررہا ہے، جس کا آغاز24 جون 2025 سے ہوا۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے دعوے کے مطابق، اس سروے کا مقصد صرف ووٹرلسٹ کواپ ڈیٹ کرنا، فرضی اورنا اہل ووٹروں کے ناموں کوہٹانا اور ہندوستانی شہریوں کے ووٹ ڈالنے کویقینی بنانا ہے۔ بہارمیں تقریباً 7.89 کروڑووٹرہیں اورجب ووٹرلسٹ کواپ ڈیٹ کیا جائے گا تو35.6 لاکھ لوگوں کے نام حذف ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ووٹرلسٹ پرنظرثانی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے پرمسلسل احتجاج کررہی ہیں۔
اپوزیشن پارٹی (کانگریس، آرجے ڈی، سی پی آئی-ایم ایل) نے ووٹرلسٹ نظرثانی مہم کو جمہوری اورنیشنل رجسٹرآف سٹیزنز(این آرسی) کے تحت کارروائی قراردیا ہے۔ غریب، دلت، اوبی اور مسلم طبقے کے رائے دہندگان کو ووٹنگ کے حقوق سے محروم کرنے والا بتایا ہے۔ آرجے ڈی لیڈرتیجسوی یادونے ووٹرلسٹ نظرثانی مہم کولاکھوں غریبوں اوراقلیتوں کے نام ووٹرلسٹ سے ہٹانے کی سازش قراردیا ہے۔ تیجسوی یادو اس موضوع سے متعلق مسلسل نتیش کمارکی حکومت اور مرکزی حکومت پرحملہ آور ہیں۔ انہوں نے تازہ بیان دے کر بہار اسمبلی الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی بات کہی ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد بہاراور مرکز میں سیاست گرم ہوگئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔