اتوار کو بہار کے دارالحکومت میں نامعلوم مسلح مجرموں نے ایک وکیل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جو کہ دیہی پٹنہ میں بی جے پی کے ایک کارکن کے قتل کے فوراً بعد ہی ہوا ہے۔ بہار میں گزشتہ کچھ دنوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی وجہ سے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور انھوں نے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
پولیس نے بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں نے جتیندر کمار پر اس وقت گولی چلائی جب وہ پٹنہ سٹی سب ڈویژن کے تحت سلطان گنج پولیس اسٹیشن سے بمشکل 300 میٹر کے فاصلے پر ایک چائے کے اسٹال پر چائے پی کر گھر لوٹ رہے تھے۔ جتیندر کمار کو پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال (PMCH) لے جایا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی قریبی تھانہ سلطان گنج کی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی، لیکن پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے تھے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ ’’ہم جرم میں ملوث مجرموں کی شناخت کا پتہ لگانے کے لیے علاقے سے سی سی ٹی وی فوٹیج اکٹھا کر رہے ہیں۔ کچھ مقامی رہائشیوں اور دکانداروں کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جو اس واقعے کے عینی شاہد تھے۔‘‘
بعد ازاں سب ڈویژنل پولیس آفیسر (ایس ڈی پی او)، پٹنہ سٹی، اتل جھا دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کیں۔ انھوں نے کہا کہ قتل کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ قتل کی وجہ جاننے کے لیے مقتول کے اہل خانہ کا بیان بعد میں ریکارڈ کیا جائے گا۔ مقتول کے گھر والوں نے بتایا کہ جتیندر نے پچھلے دو سالوں سے قانون کی پریکٹس چھوڑ دی تھی۔
گزشتہ روز ہی بی جے پی لیڈر کا بھی ہوا ہے گولی مار کا قتل
واضح رہے کہ یہ واقعہ دیہی پٹنہ میں پپرا پولیس اسٹیشن کی حدود میں بی جے پی کے ایک کارکن کے قتل کے 24 گھنٹے کے اندر ہی پیش آیا ہے۔ شیخ پورہ گاؤں کے رہنے والے 52 سالہ سریندر کیوت پر ہفتے کی رات دیر گئے اپنے کھیت سے گھر لوٹتے ہوئے مسلح مجرموں نے حملہ کیا تھا۔ سریندر کو علاج کے لیے ایمس-پٹنہ لے جایا گیا، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ پپرا پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) آر کے پال نے بتایا کہ حملہ آوروں نے اس پر اس وقت قریب سے فائرنگ کی جب وہ اپنی موٹر سائیکل پر اپنے کھیت سے گھر واپس آرہے تھے۔ سریندر کیوت کے قتل کی وجہ بھی اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
اس سے قبل 4 جولائی کو ایک ممتاز تاجر گوپال کھیمکا کو گاندھی میدان کے پاس نمائش روڈ پر واقع ان کے اپارٹمنٹ کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپارٹمنٹ کے احاطے میں داخل ہونے کے لیے سیکیورٹی گارڈ کے مرکزی دروازے کو کھولنے کا انتظار کر رہے تھے۔ بعد ازاں پولیس نے اس کیس کے ماسٹر مائنڈ اور مبینہ شوٹر کو گرفتار کرلیا۔
اپوزیشن نے حکومت پر سادھا نشانہ
بہار کے دارالحکومت میں پے در پے ہونے والے ان قتل کے واقعات نے بہار میں سیاسی ہلچل بھی بڑھا دی ہے۔ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ ذاتی دشمنی کی وجہ سے ہونے والے قتل کو نہیں روکا جا سکتا۔ تاہم پولیس نے تمام معاملات میں کارروائی شروع کر دی ہے۔ وہیں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے ریاست میں جرائم پر قابو پانے میں ناکامی کے لیے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’بہار میں ان دنوں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
باکسنگ میں لو لینا بورگوہین، پروین ہڈا اور انکش پنگھال نے گولڈ جیتا، ریسلنگ میں…
نصرت اس وقت بالی کے اسپتال میں داخل ہیں اور طبی نگرانی میں ہیں۔ ڈاکٹروں…
IRCTC منی لانڈرنگ کیس میں لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو ہفتہ کو…
یہ تنازع سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان پوسٹس کے بعد شروع ہوا، جن…
امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے پنجاب کانگریس کے صدر کے عہدے سے باضابطہ استعفیٰ دے…
لال بہادر شاستری نے اقتدار کی بلند ترین منزل پر پہنچ کر بھی عام آدمی…