داناپور (بہار): بہار کے داناپور علاقے میں پیر کے روز ہونے والی شدید بارش اور تیز ہواؤں نے دھان کی فصلوں کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے، جس سے مقامی کسان شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ طوفانی بارش کے باعث سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور کسانوں نے حکومت سے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی کسان رام کمار سنگھ نے بتایا کہ پورا بہار اس وقت مونتھا طوفان کی زد میں ہے۔ ان کے مطابق، منیر اور اطراف کے بازاروں میں سبزیوں اور دھان کی فصلوں کی زبردست بربادی دیکھی جا رہی ہے، مگر حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی۔
انہوں نے کہا کہ ’’پورا بہار اس وقت مونتھا طوفان کی زد میں ہے۔ کسانوں اور منڈیوں کی حالت خراب ہے، سبزیوں سے لے کر چاول تک ہر چیز متاثر ہے۔ سرکاری اہلکار انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جبکہ کسانوں کی حالت پر کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال ربیع کی فصل تباہ ہوئی تھی اور اب دھان کے کسان پھر بحران کا شکار ہیں۔ حکومت کو وضاحت کرنی چاہیے یا مقامی سطح پر افسران کو خود آگے بڑھ کر قدم اٹھانا چاہیے‘‘۔
ایک اور کسان، روی رنجن، نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ان کی پوری دھان کی فصل برباد ہو گئی ہے اور کوئی بھی ان کے دکھ کو سننے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس موسم میں دھان کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ انتخابی مہم کے شور میں کسانوں کی آواز دب گئی ہے۔ ہماری محنت ضائع ہو گئی، ہزاروں کسانوں کی فصلیں برباد ہو چکی ہیں، مگر حکومت کی طرف سے کوئی مدد نہیں آ رہی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ہمیں مناسب معاوضہ فراہم کرے‘‘۔ کسانوں کے بڑھتے دباؤ کے بعد، داناپور کی سب ڈویژنل مجسٹریٹ دیویا شکتی نے کہا کہ انتظامیہ نے تمام بلاکوں اور پنچایتوں میں زرعی نقصانات کا جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر نقصان 33 فیصد سے زیادہ پایا گیا تو متاثرہ کسانوں کو راحت اور معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
ایس ڈی ایم دیویا شکتی نے کہا کہ ’’حالیہ بارش کے بعد ہم تمام بلاکوں اور پنچایتوں میں زرعی نقصان کا تخمینہ لگا رہے ہیں۔ زراعتی افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کھیتوں میں سروے کریں اور رپورٹ جمع کریں۔ اگر نقصان 33 فیصد سے زیادہ ہو، تو ریلیف اسکیمیں فوری طور پر شروع کی جائیں گی۔ ہمارے معائنہ کا کام کل سے جاری ہے، زراعتی کوآرڈینیٹر، بلاک زراعتی افسران اور سب ڈویژنل افسران کھیتوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جیسے ہی تمام معلومات جمع ہوں گی، اہل کسانوں کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا‘‘۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے جلد از جلد مالی مدد فراہم نہ کی تو ان کے لیے آئندہ فصل کی بوائی ممکن نہیں رہے گی۔ ریاست میں جاری موسمی بحران نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے اور ان کی امیدیں اب صرف حکومتی امداد پر ٹکی ہوئی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
2026 کے نوبیل انعامات کے شیڈول کے مطابق پیر کو میڈیسن کے انعام کا اعلان…
مشترکہ پریس بیان میں وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان بڑھتے ہوئے…
وزیراعظم نریندر مودی اور سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلن نے پیر کے روز نئی دہلی…
وزیر خزانہ نے ستمبر 2025 میں نافذ کیے گئے شرحوں کو معقول بنانے کے عمل…
سوئس صدر پارمیلن نے کہا کہ ان کا ہندوستان دورہ دونوں ممالک کے درمیان قائم…
سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ لڑکیوں کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی۔ میرا خیال…