قومی

Bihar elections 2025: کُمھرار میں 35 سالوں سے بی جے پی کی جیت کا سلسلہ جاری، جانئے اس بار کیا ہیں سیاسی مساوات

پٹنہ: بہار کی راجدھانی پٹنہ میں واقع کُمھرار اسمبلی حلقہ ایسی نشست ہے جو صرف ایک انتخابی میدان نہیں بلکہ شاندار مگدھ سلطنت کی روح ہے، جہاں سے ہندوستان کا سب سے بڑا سامراج شروع ہوا تھا۔ اس اسمبلی حلقے کو پہلے ’پٹنہ سینٹرل‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، جسے1977 میں قائم کیا گیا تھا۔2008 میں حد بندی کے بعد اس کا نام بدل کر کُمھرار کر دیا گیا۔ یہ حلقہ پٹنہ نگر نگم کے آٹھ وارڈوں اور پٹنہ دیہی بلاک کے ایک حصے کو ملا کر بنا ہے اور یہ مکمل طور پر شہری علاقہ ہے۔

بی جے پی کے لیے ناقابلِ شکست قلعہ رہا ہے کُمھرار

پٹنہ سینٹرل (موجودہ کُمھرار) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے ہمیشہ ایک ناقابلِ شکست قلعہ رہا ہے۔ بی جے پی نے یہاں پہلی جیت 1980 میں درج کی، اور 1985 کے انتخاب کو چھوڑ کر، جب اسے کانگریس سے شکست ہوئی تھی، تب سے یہ سیٹ مسلسل بی جے پی کے قبضے میں ہے۔

پانچ بار لگاتار رکن اسمبلی منتخب ہوئے ارون کمار سنہا

اس قلعے کو مضبوطی دینے کا سہرا بی جے پی کے قدآور لیڈر اور سابق نائب وزیراعلیٰ سشیل کمار مودی کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے 1990 سے 2000 تک لگاتار تین بار پٹنہ سینٹرل سے کامیابی حاصل کی۔ ان کے بعد ارون کمار سنہا نے اس نشست پر اپنی گرفت مضبوط کی اور پانچ بار لگاتار رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔

گزشتہ 35 برسوں سے یہ نشست بی جے پی کے لیے یکطرفہ ثابت ہوئی ہے۔ 2020 کے اسمبلی انتخاب میں بھی بی جے پی کے ارون کمار سنہا نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے دھرمندر کمار کو بڑے فرق سے شکست دی۔ ارون کمار سنہا کو 81,400 ووٹ ملے، جبکہ دھرمندر کمار کو 54,937 ووٹ حاصل ہوئے۔

بی جے پی کی جیت کا فرق ہمیشہ نمایاں رہا ہے — 2010 میں 67,808 ووٹوں سے، 2015 میں 37,275 سے اور 2020 میں 26,463 ووٹوں سے۔ اسی طرح لوک سبھا انتخابات میں بھی بی جے پی نے کُمھرار میں 2014 میں 64,033، 2019 میں 62,959 اور 2024 میں 47,149 ووٹوں کی برتری حاصل کی۔ یہ نشست پٹنہ صاحب لوک سبھا حلقہ کے تحت آتی ہے۔

دہائیوں سے، کائستھ ووٹ بینک بی جے پی کی جیت میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا آیا ہے۔ کائستھوں کے علاوہ، یہاں بھومیہار اور انتہائی پسماندہ طبقات کے ووٹ بھی بڑی تعداد میں ہیں۔ ذات پات کے لحاظ سے یہاں یادو، راجپوت، کوئری، کرمی، برہمن اور مسلم ووٹرز بھی قابل ذکر تعداد میں موجود ہیں۔

2020 کے اعداد و شمار کے مطابق، دلت ووٹر 7.21 فیصد اور مسلم ووٹر 11.6 فیصد تھے۔ اب تک حزبِ اختلاف اس نشست پر کوئی خاص اثر قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

یہ وہ مقدس سرزمین ہے جہاں کبھی طاقتور پاٹلی پتر شہر آباد تھا، جس نے صدیوں تک پورے برصغیر پر حکومت کی۔ راجا بمبسار کے بیٹے اجات شترو نے جب راجگیر سے دارالحکومت کو یہاں منتقل کیا، تب سے لے کر چانکیہ کی رہنمائی میں چندر گپت موریہ کے ذریعہ موریہ سلطنت کی بنیاد رکھنے تک، پاٹلی پتر اقتدار کا مرکز رہا۔ بعد میں، شہنشاہ اشوک کی راجدھانی بھی یہی بنی، جن کی سلطنت افغانستان سے لے کر بنگلہ دیش تک پھیلی ہوئی تھی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Awas Yojna: جام نگر کے مستحقین نے کہا- پکے مکان کا خواب وزیر اعظم مودی نے کیا پورا

گجرات کے جام نگر میں اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد بتا رہے ہیں…

14 minutes ago

Delhi Pollution: دہلی میں آلودگی کے خلاف پابندیاں: یکم نومبر سے ان گاڑیوں کے داخلے پر روک

سردیوں میں بڑھتی فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومت نے یکم نومبر سے دہلی…

29 minutes ago

Cyclone Arnab: طوفان ’ارنب‘ کے باعث جھارکھنڈ کے 7 اضلاع میں شدید بارش کا ’اورنج الرٹ‘، کب ملے گی راحت؟

محکمۂ موسمیات نے ریاست کے پورے مغربی خطے میں شدید سے بہت شدید بارش کے…

1 hour ago