کہلگاؤں اسمبلی الیکشن 2025۔
پٹنہ: بہار کے بھاگلپور ضلع کی کہلگاؤں اسمبلی سیٹ سنہولا، گوراڈیہ، اور کہلگاؤں بلاکوں کے ساتھ ساتھ 12 گرام پنچایتوں اور کہلگاؤں نگر پنچایت کو ملا کر بنی ہے۔ یہ بھاگلپور لوک سبھا حلقہ کا حصہ ہے اور اپنی تاریخی، ثقافتی اور مذہبی اہمیت کے لیے مشہور ہے۔
تاریخ میں سنہرے حروف میں درج ہے کہلگاؤں
کہلگاؤں ہندوستانی تاریخ میں سنہرے حروف میں درج ہے۔ یہاں کے انتیچک گاؤں میں واقع وکرم شیلا مہاویہارا، جسے 8ویں صدی کے آخر میں پالا خاندان کے بادشاہ دھرم پال (770-810 AD) نے قائم کیا تھا، نالندہ یونیورسٹی کے برابر سمجھا جاتا تھا۔
یہ یونیورسٹی کوسی اور گنگا دریاؤں سے گھری ہونے کے ساتھ ساتھ اُترواہنی گنگا کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے ایک تیرتھ استھل (مقدس مقام) کے طور پر بھی مشہور تھی۔ تاریخ کے صفحات میں یہ بھی درج ہے کہ 1494 سے 1505 تک کہلگاؤں جونپور سلطنت کا جلاوطن دارالحکومت رہا۔ یہیں پر بنگال کے آخری حکمراں محمود شاہ کی مزار بھی واقع ہے، جو شیر شاہ سوری سے جنگ میں شکست کے بعد شہید ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ، گنگا ندی کے کنارے آباد کہلگاؤں کئی قدیم مندروں اور مذہبی مقامات کا مرکز ہے۔ یہاں کالی ماتا اور بھگوان شیو کے مندر عقیدت مندوں کے درمیان خاص مقبولیت رکھتے ہیں۔ گنگا ندی نہ صرف مذہبی نقطۂ نظر سے اہم ہے بلکہ یہ علاقے کی زراعت، ماہی گیری اور آمدورفت کا بھی بنیادی سہارا ہے۔ حالانکہ، گنگا کے سبب سیلاب اور کٹاؤ اس علاقے کے لیے ایک بڑا چنوتی چیلنج ہے۔
سیلاب، کٹاؤ، روزگار، زراعت، بجلی اور سڑک جیسے مسائل ہمیشہ کہلگاؤں کے انتخابی مباحثے کے مرکز میں رہتے ہیں۔ یہ مسائل علاقے کی سماجی و اقتصادی حالت پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ووٹروں کے درمیان اہم سیاسی موضوع بنے رہتے ہیں۔
سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو 1951 میں قائم کہلگاؤں اسمبلی سیٹ ایک زمانے میں کانگریس کا روایتی گڑھ رہی ہے۔ اب تک ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے 11 بار کامیابی حاصل کی۔ جنتا دل نے دو بار، جبکہ سی پی آئی، آزاد امیدوار، جے ڈی یو اور بی جے پی نے ایک ایک بار اس سیٹ پر قبضہ جمایا ہے۔
سال 2020 کے انتخابات میں بی جے پی نے پہلی بار اس سیٹ پر کامیابی حاصل کی، جب پون یادو نے کانگریس کے قدآور لیڈر سدانند سنگھ کے بیٹے شبھانند کو شکست دی۔
کہلگاؤں میں یادو اور مسلم ووٹر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، برہمن، کوئری، روی داس اور پاسوان برادری کے ووٹر بھی سیاسی مساوات پر اثر ڈالتے ہیں۔ یہ متنوع ووٹر بیس اس سیٹ کو سیاسی طور پر حساس اور مسابقتی بناتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ…
الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان سابق جوائنٹ ڈائریکٹر محمد امین نے…
راہل راج سنگھ کا شروع سے دعویٰ رہا ہے کہ وہ اور پرتیوشا دسمبر 2016…
گرین انرجی کوریڈور فیز-III کو کابینہ کی منظوری، 135 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل…
بھارت نے سیریز کا پہلا میچ بھی 8 وکٹوں سے جیتا تھا۔ اب سیریز کا…
پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے…