بہار کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے 6 مئی کو ریاستی کابینہ کی ایک بڑی اور اہم میٹنگ طلب کی ہے۔ یہ اجلاس شام 5 بجے وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ میں منعقد ہوگا، جس میں کئی اہم فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔ سب سے زیادہ توجہ کابینہ توسیع کے معاملے پر مرکوز ہے، جس پر طویل عرصے سے قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ اب اطلاعات ہیں کہ اس سلسلے میں تقریباً حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اس میٹنگ میں اس پر باضابطہ مہر لگ سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے حال ہی میں دہلی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرکزی قیادت کے کئی سرکردہ لیڈروں سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں کابینہ کی توسیع اور اس کے فارمولے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ بی جے پی اور جے ڈی یو کے درمیان 15-15 وزراء کا فارمولہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں جماعتوں کو مساوی نمائندگی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اتحادی جماعتوں جیسے لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس)، ہم اور راشٹریہ لوک مورچہ کو بھی کابینہ میں جگہ دیے جانے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق ممکنہ کابینہ میں بی جے پی کے 13 اور جے ڈی یو کے 12 وزراء شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی نمائندگی دینے کی تیاری ہے۔ اس فارمولے کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیر اعلیٰ نے مسلسل مشاورت کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ دہلی روانگی سے قبل انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بھی ملاقات کی، جسے سیاسی حلقوں میں کافی اہم مانا جا رہا ہے۔ اس ملاقات کو کابینہ توسیع کی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ ادھر، سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی سے بھی وزیر اعلیٰ کی ملاقات ہوئی، جس کے بعد مانجھی کا بیان خاصا زیر بحث ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے انہیں اپنے سرپرست کے طور پر تسلیم کیا اور ذاتی تعلقات کا حوالہ دیا، جس کے بعد انہیں کسی اضافی مطالبے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ تاہم مانجھی نے بالواسطہ طور پر اپنے بیٹے سنتوش کمار سمن کی کابینہ میں شمولیت کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو پہلے بھی وزیر رہ چکے ہیں۔
جیتن رام مانجھی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ نئی کابینہ کی تشکیل میں تمام طبقات اور علاقوں کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیا کہ فیصلہ سازی میں بہتر تال میل اور توازن برقرار رکھا جائے تاکہ ریاست کی ہمہ جہت ترقی ممکن ہو سکے۔ 6 مئی کو ہونے والی اس میٹنگ پر سب کی نظریں مرکوز ہیں، خاص طور پر مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔ ایسے میں بہار کابینہ کی توسیع کو نہ صرف ریاست بلکہ قومی سیاست کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…