بہار اسمبلی کے مانسون اجلاس کے آخری دن جمعہ کو طلبہ تحریک کے معاملے پر زبردست سیاسی ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ کارروائی شروع ہوتے ہی حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے اراکین آمنے سامنے آ گئے۔ شدید شور شرابے، نعرے بازی اور تلخ جملوں کے تبادلے کے باعث اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار کو محض پانچ منٹ کے اندر ہی ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔
اپوزیشن کا الزام، طلبہ پر لاٹھیاں اور گولیاں چلائی گئیں
کارروائی کے آغاز پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن اسمبلی آلوک مہتا نے پٹنہ سے لے کر دہلی تک طلبہ پر ہونے والے لاٹھی چارج اور پولیس کارروائی کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جائز مطالبات کے لیے احتجاج کرنے والے بے قصور طلبہ پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں اور یہاں تک کہ گولیاں بھی چلائیں۔
حکمران اتحاد کا جوابی حملہ
اپوزیشن کے ان الزامات پر بی جے پی، جنتا دل (یونائیٹڈ) اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے اراکین نے سخت اعتراض کیا۔ ایل جے پی کے رکن راجو تیواری نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں شرپسند عناصر پولیس، میڈیا، رہنماؤں اور عام شہریوں پر پتھراؤ کر رہے ہیں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے ایوان میں ایسے عناصر کے خلاف مذمتی قرارداد لانے کا مطالبہ بھی کیا۔
شور شرابے کے باعث کارروائی ملتوی
ہنگامے کے دوران اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کر ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار نے اراکین سے پرسکون رہنے اور سوالیہ وقفہ چلنے دینے کی اپیل کی، لیکن دونوں جانب سے جاری ہنگامے اور تلخ بیانات کے باعث ان کی اپیل بے اثر رہی۔ آخرکار اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انہوں نے PM سوریا گھر مفت بجلی یوجنا کے ذریعے گھروں کی چھتوں پر سولر…
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…