قومی

Bharat Tiwari Encounter Case: ’’پوسٹ مارٹم رپورٹ اب تک منظر عام پر کیوں نہیں لائی گئی…‘‘؟ بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملے پر روہنی آچاریہ کا سوال

پٹنہ: راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے بھرت تیواری مبینہ فرضی انکاؤنٹر معاملے میں بہار حکومت کی جانب سے عدالتی جانچ کے حکم پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک بھرت تیواری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر نہ آنا کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔

عدالتی جانچ پر شکوک کا اظہار

روہنی آچاریہ نے ایکس پر لکھا کہ بھرت تیواری فرضی انکاؤنٹر کیس میں قائم کی گئی عدالتی جانچ سے فوری طور پر کسی واضح نتیجے یا انکشاف کی امید نظر نہیں آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی جانچ کا عمل طویل ہو سکتا ہے، جس کے باعث اس ’سنگین قتل‘ کے ذمہ دار افراد کا تعین ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عدالتی جانچ کا حکم دراصل عوامی غصے اور احتجاج کو کم کرنے کے لیے حکومت کی ایک حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوال

سارن سے گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں راشٹریہ جنتا دل کی امیدوار رہ چکی روہنی آچاریہ نے کہا کہ دلتوں، محروم طبقات اور پسماندہ افراد کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے جان گنوانے والے بھرت تیواری کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کے لیے کئی لوگ میدان میں سرگرم ہیں، لیکن حکومت اب تک بنیادی سوالات کا جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ بھرت تیواری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کہاں ہے اور اسے اب تک عوامی کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کا الزام تھا کہ رپورٹ کے اجرا میں تاخیر کے ذریعے حکومت اور پولیس کسی کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

عدالتی کارروائی کے لیے اہم دستاویز

روہنی آچاریہ نے کہا کہ اس معاملے سے متعلق کئی درخواستیں مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان مقدمات کی قانونی مضبوطی کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ ایک نہایت اہم دستاویز ہے۔ ایسے میں اس رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانا شکوک و شبہات کو مزید بڑھاتا ہے۔

موبائل فون کے ڈیٹا کو بھی عوامی کرنے کا مطالبہ

انہوں نے بتایا کہ بھرت تیواری کے اہل خانہ مقتول کے موبائل فون کی تفصیلات کو بھی عوامی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ موبائل فون اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے اور اس میں مبینہ فرضی انکاؤنٹر کے احکامات دینے والوں سے متعلق اہم شواہد، معلومات اور واٹس ایپ گفتگو موجود ہو سکتی ہے۔

پولیس کی خاموشی پر اعتراض

روہنی آچاریہ نے الزام لگایا کہ پولیس اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنی مبینہ غلطیوں کو چھپانے کے لیے موبائل فون، اس کا ڈیٹا اور واٹس ایپ چیٹس کو ضائع یا حذف کر دیا گیا ہو۔

شفافیت اور انصاف کا مطالبہ

روہنی آچاریہ نے کہا کہ حکومت کو عدالتی جانچ کے ساتھ ساتھ اس کیس سے متعلق تمام اہم دستاویزات، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور موبائل ڈیٹا کی موجودہ صورتحال کو بھی واضح کرنا چاہیے، تاکہ بھرت تیواری کے اہل خانہ کو انصاف مل سکے اور پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

30 minutes ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

10 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

11 hours ago

Lucknow Floods: لکھنؤ میں سیلاب کا مستقل حل، فیض اللہ گنج سے نیمیش تک گرین کوریڈور کی طرز پر بنے گا پشتہ، سی ایم یوگی نے کیا بڑا اعلان

گومتی میں بڑھتی آبی سطح اور حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی…

11 hours ago