قومی

Education Crisis in Digital India: بھنڈارا میں تعلیم کا ’بیڑا غرق‘: 50 اسکولوں میں ایک بھی استاد نہیں، برباد ہو رہا ہے معصوم بچوں کا مستقبل

ایک طرف مودی حکومت معیاری تعلیم اور ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کے دعوے بڑے زور و شور سے کر رہی ہے، تو دوسری جانب مہاراشٹر کے ضلع بھنڈارا (Bhandara District) سے تعلیمی نظام کی ایسی افسوسناک اور شرمناک حقیقت سامنے آئی ہے، جو کسی بھی حساس معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گی۔ نیا تعلیمی سال شروع ہو چکا ہے، معصوم طلبہ کے ہاتھوں میں نئی کتابیں تھما دی گئی ہیں، اسکولوں کی عمارتیں بھی تیار ہیں، مگر کلاس روم میں پڑھانے کے لیے ایک بھی استاد موجود نہیں۔

50 اسکولوں میں ایک بھی استاد نہیں، 800 اساتذہ کی شدید کمی

ضلع بھنڈارا میں ضلع پریشد (Zilla Parishad) کے کل 794 اسکول ہیں، جہاں زیادہ تر دیہی اور قبائلی علاقوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ زمینی رپورٹ کے مطابق ان 794 اسکولوں میں تقریباً 800 اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ضلع کے 50 اسکول ایسے ہیں جہاں ایک بھی استاد تعینات نہیں۔ کئی اساتذہ ریٹائر ہو چکے ہیں، مگر ان کی جگہ آج تک نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں۔ جن اسکولوں میں کسی طرح استاد موجود بھی ہیں، وہاں ایک ہی استاد پر پورے اسکول کی تمام جماعتوں کو سنبھالنے کی ناممکن ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔

طلبہ کا آخر قصور کیا ہے؟

سوال یہ ہے کہ دیہی اور قبائلی علاقوں کے ان بچوں کا آخر قصور کیا ہے، جو بنیادی تعلیم سے بھی محروم ہو رہے ہیں؟ تعلیم کے نام پر بڑے بڑے وعدے اور اعلانات کرنے والی  بی جے  پی حکومت اور انتظامیہ کو یہ 50 بغیر استاد والے اسکول کیوں نظر نہیں آ رہے؟ اس صورتحال پر والدین میں شدید غصہ اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آج اسکولوں میں اساتذہ نہیں ہوں گے تو کل طلبہ مایوس ہو کر اسکول جانا چھوڑ دیں گے، اور پھر دیہات کے یہ تعلیمی ادارے ہمیشہ کے لیے بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہو جائیں گے۔

حکومت کب جاگے گی؟

حالات اس قدر خراب ہیں کہ اساتذہ کی بھرتی کے مطالبے پر ضلع پریشد کے تعلیمی کمیٹی کے چیئرمین کو بھوک ہڑتال تک کرنا پڑی، لیکن حکومت اور انتظامیہ پر اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس وقت ہزاروں طلبہ کا مستقبل خطرے میں ہے، اور پورا ضلع اس انتظار میں ہے کہ آیا حکومت اس سنگین بحران کا نوٹس لے گی یا بھنڈارا کے معصوم بچوں کا مستقبل اسی طرح حکومتی غفلت کی نذر ہوتا رہے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Minor gang-raped near Kalkaji Temple: کالکاجی مندر کے قریب نابالغ لڑکی سے اجتماعی زیادتی، انکاؤنٹر کے بعد ایک ملزم گرفتار

ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…

1 hour ago

Jain Acharya Lokesh Ji: سکندرآباد میں وکست بھارت 2047 سیمینار، آچاریہ لوکیش بولے- سناتن روایت کا اقدار ہی ترقی یافتہ بھارت کی فکری بنیاد

آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…

2 hours ago

UP 34 IAS Officers Transfer: اتر پردیش میں بڑا انتظامی ردوبدل، 34 آئی اے ایس افسران کے تبادلے، 14 اضلاع کو ملے نئے ڈی ایم

اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…

11 hours ago