قومی

Beating Retreat Ceremony 2026: کیا ہے ’ بیٹنگ ریٹریٹ‘ اور اس کی تاریخ؟ جانئے 29 جنوری کو وجے چوک پر کیوں تھم سا جاتا ہے وقت؟

نئی دہلی: یومِ جمہوریہ کی شاندار پریڈ کے بعد اکثر لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ قومی جشن اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے، مگر حقیقت اس سے مختلف ہے۔ دراصل، یومِ جمہوریہ کی تقریبات کا باضابطہ اور پُروقار اختتام 29 جنوری کی شام دہلی کے تاریخی وجے چوک پر منعقد ہونے والی تقریب ’’ بیٹنگ ریٹریٹ‘‘ سے ہوتا ہے۔ یہ تقریب بھارتی افواج کے نظم و ضبط، شجاعت، موسیقی اور قومی وقار کی ایک دلکش تصویر پیش کرتی ہے، جس میں روایت اور جدیدیت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔

’ بیٹنگ ریٹریٹ‘ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ صدیوں پرانی فوجی روایت ہے، جس کی جڑیں قدیم جنگی تاریخ سے جڑی ہوئی ہیں۔ ماضی میں، جب جدید مواصلاتی ذرائع دستیاب نہیں تھے، میدانِ جنگ میں دن بھر کی لڑائی کے اختتام پر ڈھول یا بگل کی مخصوص آواز بجائی جاتی تھی۔ یہ آواز اس بات کا اشارہ ہوتی تھی کہ دن کی جنگ ختم ہو چکی ہے، سپاہی اپنے ہتھیار رکھ کر محفوظ مقامات یا کیمپوں میں واپس لوٹ جائیں۔ اسی روایت کو بعد میں رسمی شکل دی گئی اور اسے ’’ بیٹنگ ریٹریٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔

بھارت میں اس روایت کا آغاز باضابطہ طور پر سنہ 1952 میں ہوا۔ تب سے یہ تقریب یومِ جمہوریہ کے سرکاری اختتام کی علامت بن گئی ہے۔ ہر سال 29 جنوری کو وجے چوک پر بھارتی بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے بینڈ ایک ساتھ مارچ کرتے ہیں اور دل موہ لینے والی دھنیں پیش کرتے ہیں۔ ترمپٹ، بگل اور ڈھول کی آوازیں پورے ماحول کو حب الوطنی کے جذبے سے سرشار کر دیتی ہیں اور حاضرین پر ایک گہرا تاثر چھوڑتی ہیں۔ اس تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں سخت فوجی نظم و ضبط کے ساتھ موسیقی کی نرمی اور روحانیت کا خوبصورت امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ ماضی میں اس موقع پر زیادہ تر غیر ملکی دھنیں بجائی جاتی تھیں، مگر وقت کے ساتھ اس میں تبدیلی آئی ہے۔ اب بھارتی فوجی بینڈ زیادہ تر ملکی، کلاسیکی اور علاقائی دھنیں پیش کرتے ہیں، جن میں ’’اے میرے وطن کے لوگوں‘‘ جیسی لازوال دھنیں شامل ہیں، جو سننے والوں کی آنکھوں کو نم کر دیتی ہیں۔

تقریب کے آخری لمحات نہایت پُراثر ہوتے ہیں، جب قومی پرچم کو مکمل احترام اور وقار کے ساتھ آہستہ آہستہ اتارا جاتا ہے۔ یہ منظر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اگرچہ جشن کا اختتام ہو رہا ہے، لیکن ملک کی سرحدوں پر تعینات جوانوں کی چوکس نگاہیں اور قربانیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ حالیہ برسوں میں ’ بیٹنگ ریٹریٹ‘ نے جدید رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ اب اس تقریب میں شاندار ڈرون شو شامل کیا جاتا ہے، جس میں سیکڑوں اور ہزاروں ڈرونز آسمان پر ترنگا، قومی نشانات اور بھارت کا نقشہ بناتے ہیں۔ یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ بھارت اپنی قدیم روایات کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’ بیٹنگ ریٹریٹ‘ آج بھی قوم کے دلوں میں خاص مقام رکھتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Third BIMSTEC Conference: بِمسٹیک کی روایتی طب، جینیاتی وسائل اور دانشورانہ املاک کے حقوق پر تیسری کانفرنس گوا میں شروع

بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…

3 hours ago

Bharat Express Urdu National Conclave: بزمِ صحافت: نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ، بھارت ایکسپریس اردو  کا نیشنل کانکلیو

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…

5 hours ago

Punjab Turban Row: پنجاب میں ’پگڑی‘ پر گھمسان تو یوپی میں کانگریس کی نئی بریگیڈ تیار! جانیے 5 ریاستوں کے انتخابات سے پہلے کیا ہے ہلچل؟

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…

6 hours ago

Special Parliament Session: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی تیاری؟ حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر ہو سکتا ہے بڑا فیصلہ

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…

7 hours ago