قومی

’باگورُمبا دوہو‘ ہماری عظیم بوڈو روایت کو احترام پیش کرنے کا ذریعہ، کانگریس نے کبھی آسام کو اپنا نہیں سمجھا: پی ایم مودی

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی ہفتہ کو دو روزہ آسام دورے پر پہنچے، جہاں ہوائی اڈے پر آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانت بسوا سرما نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم کے اس دورے کو آسام کے ترقیاتی سفر میں ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانت بسوا سرما نے ہوائی اڈے پر وزیراعظم مودی کا استقبال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ گوہاٹی ہوائی اڈے پر وزیراعظم نریندر مودی کا استقبال کرتے ہوئے بے حد خوشی محسوس ہوئی۔

وزیراعظم نریندر مودی روڈ شو میں شامل ہوئے اور پھر ’باگورُمبا دوہو‘ کے شاندار ثقافتی جشن میں شرکت کی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت آسام کی ہر وراثت اور ہر فخر کو عزت دینا اپنا اعزاز سمجھتی ہے۔ اتفاق سے آج جیوتی پرساد اگروال کی برسی بھی ہے، میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ’باگورُمبا دوہو‘ محض ایک تہوار نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری عظیم بوڈو روایت کو خراجِ احترام پیش کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ بوڈو سماج کی عظیم شخصیات کو یاد کرنے کا بھی ایک وسیلہ ہے۔ میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ آسام کی فن و ثقافت کو ایک بڑا پلیٹ فارم ملے اور شاندار تقریبات کے ذریعے اس کی پہچان ملک اور دنیا میں بنے۔ اسی مقصد کے تحت پہلے بھی مسلسل کوششیں کی گئی ہیں۔ بڑے پیمانے پر بیہو سے جڑے پروگرام منعقد ہوں۔ آسام کی فن و ثقافت میں جو بے مثال خوشی اور سرور ہے، اسے محسوس کرنے کا میں کوئی موقع نہیں چھوڑتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ سوچ کر میں جذباتی ہو جاتا ہوں کہ میرا آسام کس قدر آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہاں آئے دن خون خرابہ ہوتا تھا، اور آج وہیں ثقافت کے دلکش رنگ سجے ہوئے ہیں۔ جہاں کبھی گولیوں کی آواز گونجتی تھی، آج وہاں خام اور سیفُنگ کی مدھر دھن سنائی دیتی ہے۔ جہاں پہلے کرفیو کی خاموشی ہوتی تھی، آج وہاں موسیقی کے سُر گونج رہے ہیں۔ جہاں پہلے بدامنی اور عدم استحکام تھا، آج وہاں باگورُمبا کی شاندار پیشکشیں ہو رہی ہیں۔ یہ کامیابی صرف آسام کی نہیں بلکہ پورے بھارت کی ہے۔ آسام کی اس تبدیلی پر ہر ہندوستانی کو فخر ہے۔

انہوں نے کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب ہم آسام کی فن، ثقافت اور شناخت کا احترام کرتے ہیں تو کچھ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور وہ لوگ کون ہیں—کانگریس پارٹی۔ وہ کون سی پارٹی ہے جس نے بھوپین ہزاریکا کو بھارت رتن دینے کی مخالفت کی—کانگریس پارٹی۔ آسام میں سیمی کنڈکٹر یونٹ کی مخالفت کس نے کی—کرناٹک کی کانگریس حکومت کے ایک وزیر نے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کانگریس نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے آسام میں عدم استحکام پیدا کیا اور ریاست کو تشدد کی آگ میں دھکیل دیا۔ آزادی کے بعد آسام کو بڑی مشکلات کا سامنا تھا، لیکن کانگریس نے ان مسائل کے حل کی بجائے سیاسی فائدہ اٹھایا۔ جہاں اعتماد کی ضرورت تھی، وہاں کانگریس نے تقسیم کو بڑھایا۔ جہاں مکالمے کی ضرورت تھی، وہاں اس نے نظرانداز کیا اور بات چیت کے راستے بند کر دیے۔ جب ضرورت آسام کے لوگوں کے زخم بھرنے اور ان کی خدمت کرنے کی تھی، تب کانگریس غیر ملکی دراندازوں کی خاطر تواضع میں مصروف رہی۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس آسام کے لوگوں کو اپنا نہیں سمجھتی۔ کانگریس کے لوگوں کو غیر ملکی درانداز زیادہ پسند ہیں، کیونکہ وہ یہاں آ کر کانگریس کا مضبوط ووٹ بینک بن جاتے ہیں۔ اسی لیے کانگریس کے دورِ حکومت میں غیر ملکی درانداز آتے رہے، آسام کی لاکھوں بیگھا زمین پر قبضہ کرتے رہے اور کانگریس حکومت ان کی مدد کرتی رہی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آسام کا خوداعتماد، آسام کی صلاحیت اور آسام کی ترقی بھارت کی ترقی کی کہانی کو نئی طاقت دے رہی ہے۔ آج آسام تیزی سے آگے بڑھنے والی ریاستوں میں اپنی الگ شناخت بنا رہا ہے۔ آسام کی معیشت رفتار پکڑ رہی ہے اور اس ترقی و تبدیلی میں بوڈولینڈ اور یہاں کے عوام کا اہم کردار ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

2 hours ago

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

3 hours ago

Azamgarh triple murder: یوپی میں  دو پجاریوں، بیوی اور بیٹے کے قاتل کا انکاؤنٹر ہلاک، اعظم گڑھ میں 8 گھنٹے بعد یرغمالی ڈرامہ ختم

وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…

4 hours ago