ہندوستانی خلاباز شبھانشو شکلا کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) روانہ کرنے والا ایکسیوم-4 مشن خراب موسمی حالات کے باعث ایک دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ہندوستانی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) نے اعلان کیا ہے کہ اب یہ مشن 11 جون 2025 کو شام 5:30 بجے (ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق) لانچ کیا جائے گا۔
اسرو نے اس کی جانکاری دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے ایکسیوم-4 مشن کی پرواز خراب موسم کی وجہ سے اب 10 جون کے بجائے 11 جون 2025 کو لانچ کی جائے گی۔ لانچ کا مجوزہ وقت شام 5:30 بجے ہے‘‘ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے بھی اس کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا کہ ’’بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے ایکسیوم-4 مشن کی تازہ معلومات۔ خراب موسم کی وجہ سے گگن یاتری کو لے جانے والا مشن اب ممکنہ طور پر 10 جون کے بجائے 11 جون 2025 کو لانچ ہوگا۔‘‘
ایک تاریخی مشن
ایکسیوم اسپیس کے مطابق Ax-4 مشن ہندوستان، پولینڈ، اور ہنگری کے خلابازوں پر مشتمل ہے اور ان تینوں ممالک کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ ان کا کوئی نمائندہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر جا رہا ہے۔ یہ مشن خلا میں حکومتی سرپرستی میں بھیجے جانے والا گزشتہ 40 برسوں میں دوسرا انسانی خلائی مشن ہے۔ وہیں اس کے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا 1984 کے بعد خلا میں جانے والے ہندوستان کے دوسرے قومی خلاباز ہوں گے۔ یہ مشن ناسا کی مدد سے کیا جا رہا ہے۔ اس مشن میں شامل دیگر خلابازوں میں یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کے سلاؤوش اوزننسکی، ہنگری کے ٹبور کاپو شامل ہیں۔ مشہور امریکی خلاباز پیگی وائٹسن اس مشن کی کمانڈ کریں گی۔
سائنسی تحقیق اور عالمی تعاون
ایکسیوم اسپیس کے مطابق Ax-4 مشن کے دوران خلا میں 60 سائنسی تجربات اور سرگرمیاں انجام دی جائیں گی، جن میں 31 ممالک کی نمائندگی ہوگی، جن میں امریکہ، ہندوستان، پولینڈ، ہنگری، سعودی عرب، برازیل، نائجیریا، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک شامل ہیں۔ یہ اب تک کسی ایکسیوم مشن کے دوران انجام دی جانے والی سب سے بڑی سائنسی تحقیق ہے۔ اس کا مقصد کم کشش ثقل والے ماحول (Low Earth Orbit) میں انسانی تحقیق، زمینی مشاہدہ، حیاتیاتی اور مادی سائنسز کو فروغ دینا ہے۔ یہ مشن امریکہ، ہندوستان، پولینڈ (ESA کے ساتھ شراکت میں) اور ہنگری کی قیادت میں سائنسی کوششوں کو اجاگر کرے گا، تاکہ ان ممالک میں خلائی تحقیق میں مزید دلچسپی پیدا ہو اور نئی نسل کو سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب راغب کیا جا سکے۔
مشن پائلٹ کی گفتگو
دریں اثنا گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا نے مشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس مشن پر میرے ہمراہ جو ٹیم ہے، وہ لاجواب ہے۔ مجھے واقعی لگتا ہے کہ میرے ساتھی خلاباز انتہائی قابل اور شاندار لوگ ہیں۔ یہ صرف ایک فلائٹ کے لیے میرے ساتھ ہوں گے، لیکن اس کے بعد یہ میری زندگی بھر کے دوست بن جائیں گے۔ یہ سفر ناقابلِ یقین رہا ہے۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ وہ لمحات ہیں جو آپ کو احساس دلاتے ہیں کہ آپ کچھ بہت بڑے مقصد کا حصہ بن رہے ہیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ میرا یہ مشن ملک کے نوجوانوں کو متاثر کرے اور ان میں سائنسی تجسس پیدا کرے۔ اگر میری یہ کہانی ایک بھی زندگی بدلنے میں کامیاب ہو گئی، تو یہ میری سب سے بڑی کامیابی ہو گی۔ میں گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا ہوں اور میں ایکسیوم-4 مشن کا پائلٹ ہوں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…