قومی

Mamta Kulkarni on Magh Mela controversy: اوِمُکتیشورنند میں غرور بہت ہے اور علم صفر، ماگھ میلے کے تنازع پر ممتا کلکرنی کا بیان

پریاگ راج: ماگھ میلہ ان دنوں اپنے مذہبی وقار کے ساتھ ساتھ تنازعات اور بیانات کی وجہ سے بھی خبروں میں ہے۔ سادھو سنتوں کے آچرن، روایات اور حقوق کو لے کر اٹھنے والے سوالات کے درمیان کِنّر اکھاڑے کی مہامنڈلیشور ممتا کلکرنی نے آئی اے این ایس سے بات چیت کی۔ انہوں نے اپنی روحانی زندگی کے ساتھ ساتھ ماگھ میلے سے جڑے تازہ تنازع پر بھی ردعمل دیا۔

ممتا کلکرنی نے ماگھ میلے میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا، “میری زندگی اب پوری طرح سادھنا اور تپسیا کے لیے وقف ہے۔ میں پچھلے 25 برسوں سے تپسیا کر رہی ہوں۔ روزانہ گنگا جل سے اسنان کرتی ہوں اور اس کے بعد ہی پوجا پاٹھ کرتی ہوں۔ اس وقت گپت نوراتری چل رہی ہیں اور نوراتری کے دوران میں کہیں باہر نہیں جاتی، اسی لیے ماگھ میلے میں نہیں پہنچ سکی۔”

اوِمُکتیشورنند کے دھرنے پر ممتا کا سخت ردعمل

انٹرویو کے دوران جب ان سے ماگھ میلے میں پالکی روکے جانے کے خلاف جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اوِمُکتیشورنند سرسوتی کے دھرنے پر سوال کیا گیا تو ممتا کلکرنی نے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا، “اس پورے معاملے میں شنکراچاریہ کی وجہ سے ان کے ششیوں کو لات گھونسے کھانے پڑے۔ اگر اسنان ہی کرنا تھا تو پالکی سے اتر کر پیدل جا کر اسنان کیا جا سکتا تھا۔ گرو ہونے کا مطلب ذمہ داری بھرا رویہ ہوتا ہے، نہ کہ ایسی ضد جس کی قیمت ششیوں کو چکانی پڑے۔”

ممتا کلکرنی نے مزید کہا، “قانون سب کے لیے برابر ہے، چاہے وہ راجا ہو یا رنک، گرو ہو یا ششیہ۔ صرف چار وید زبانی یاد کر لینے سے کوئی شنکراچاریہ نہیں بن جاتا۔ ان میں غرور بہت ہے اور آتم گیان صفر ہے۔”

میلہ انتظامیہ نے سنگم اسنان پر لگا دی روک

واضح رہے کہ 18 جنوری کو مونی اماوسیہ کے دن جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اوِمُکتیشورنند سرسوتی پالکی میں سنگم اسنان کے لیے نکلے تھے۔ ان کے ساتھ تقریباً 200 ششیہ موجود تھے۔ میلہ انتظامیہ نے بھاری بھیڑ کا حوالہ دیتے ہوئے سنگم اسنان پر روک لگا دی اور پیدل جا کر اسنان کرنے کی ہدایت دی۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پالکی کے ساتھ آگے بڑھنے سے بھگدڑ کی صورت حال پیدا ہو سکتی تھی۔ حالانکہ، شنکراچاریہ پالکی کے ذریعے ہی سنگم کے قریب تک جانا چاہتے تھے، جس پر انتظامیہ اور شنکراچاریہ کے درمیان تقریباً تین گھنٹے تک تنازع جاری رہا۔

شِوِر کے باہر دھرنے پر بیٹھے اوِمُکتیشورنند

تین گھنٹے کی بات چیت کے بعد بھی جب کوئی اتفاق نہیں ہو سکا تو پولیس نے سختی دکھاتے ہوئے ششیوں کو ایک ایک کر کے وہاں سے ہٹا دیا۔ شنکراچاریہ کے حامیوں کا الزام ہے کہ پولیس نے سادھو سنتوں اور بٹکوں کے ساتھ مارپیٹ اور بدسلوکی کی، جبکہ انتظامیہ نے بیریکیڈ توڑنے اور بدانتظامی پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسی واقعے کے بعد سے سوامی اوِمُکتیشورنند گزشتہ پانچ دنوں سے اپنے شِوِر کے باہر پالکی پر دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

6 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

7 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

8 hours ago