قومی

Atiq family Returns to Politics: عتیق خاندان کی سیاست میں واپسی! بیٹے کے انتخاب لڑنے کی تیاری، پرانے سیاسی قلعے پر نظریں

اتر پردیش کی سیاست میں عتیق احمد کے خاندان کی ایک بار پھر سیاسی واپسی کی قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ عتیق احمد کے بیٹے عمر اور علی احمد کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں میدان میں اترنے کی تیاری کی خبریں سامنے آنے کے بعد پریاگ راج کی سیاست میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ اگر یہ انتخابی منصوبہ حقیقت بنتا ہے تو یہ عتیق خاندان کی سیاسی وراثت کو نئی نسل کے ذریعے آگے بڑھانے کی ایک اہم کوشش ہوگی۔

پرانے سیاسی قلعے پر پھر نظر

عتیق احمد نے 1989 میں الٰہ آباد ویسٹ اسمبلی حلقے سے کامیابی حاصل کرکے اپنی سیاسی شناخت مضبوط کی تھی۔ اس کے بعد کئی برس تک یہ حلقہ ان کی سیاست کا اہم مرکز رہا۔ اب اسی علاقے سے خاندان کی نئی نسل کی ممکنہ سیاسی انٹری کو عتیق خاندان کے پرانے سیاسی اثر و رسوخ کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔عتیق احمد کی سیاست کا آغاز مقامی سطح سے ہوا اور بعد میں وہ اسمبلی سے لے کر پارلیمنٹ تک پہنچے۔ ایسے میں ان کے بیٹے کی انتخابی سیاست میں ممکنہ آمد خاندان کے سیاسی سفر میں ایک نئے باب کا آغاز کر سکتی ہے۔

نئی نسل کے ذریعے سیاسی وراثت آگے بڑھانے کی تیاری

سیاسی حلقوں میں عتیق خاندان کی ممکنہ واپسی کو صرف ایک انتخابی کوشش کے بجائے نئی نسل کی سیاست میں شمولیت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ نوجوان قیادت کی آمد سے خاندان اپنی سیاسی شناخت کو نئے انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔اگر عتیق خاندان کا یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو پریاگ راج کی سیاست میں مقابلہ مزید دلچسپ ہونے کے امکانات ہیں۔ خاص طور پر پرانے سیاسی حلقے میں نئی سیاسی صف بندی اور ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوششیں تیز ہو سکتی ہیں۔

1989 کی یاد اور نئے سیاسی سفر کی امید

1989 میں حاصل ہونے والی کامیابی عتیق خاندان کے سیاسی سفر کا ایک اہم سنگِ میل رہی ہے۔ اب اگر خاندان کی نئی نسل اسی علاقے سے سیاسی میدان میں قدم رکھتی ہے تو اسے پرانی سیاسی میراث اور نئے دور کی سیاست کے امتزاج کے طور پر دیکھا جائے گا۔تاہم انتخاب لڑنے اور امیدوار کے طور پر میدان میں اترنے سے متعلق حتمی فیصلہ اور باضابطہ اعلان کا انتظار ہے۔ فی الحال اتنا ضرور ہے کہ عتیق خاندان کا نام ایک بار پھر پریاگ راج کی سیاسی گفتگو میں نمایاں ہونے لگا ہے اور ممکنہ سیاسی واپسی نے آئندہ انتخابات کی دلچسپی بڑھا دی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

INDIA Alliance Rally: ’عوامی مواخذے‘ کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی عظیم ریلی

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…

2 hours ago

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے آثار، عمرعبداللہ کے لئے بڑا جھٹکا، 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی خفیہ میٹنگ

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…

3 hours ago

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

3 hours ago

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

4 hours ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

4 hours ago