قومی

Pahalgam Terror Attack: اسدالدین اویسی کو آل پارٹی میٹنگ میں نہیں بلایا گیا تو اٹھایا سوال، وزیراعظم مودی سے کی بڑی اپیل

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد مودی حکومت نے جمعرات کوآل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ حکومت میٹنگ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کوپہلگام دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے بریف کرے گی اوران کے خیالات سنے گی۔ دوسری جانب، اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ انہیں اس میٹنگ میں مدعو نہیں کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے مرکزی وزیر کرن رجیجو سے فون پر بات کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعظم نریندرمودی سے بھی اپیل کی ہے۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ پہلگام آل پارٹی میٹنگ کے بارے میں میں نے کل رات کرن رجیجو سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف 5 یا 10 اراکین پارلیمنٹ والی پارٹیوں کو مدعو کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ جب میں نے پوچھا کہ کم اراکین پارلیمنٹ والی پارٹیوں کو کیوں نہیں، توانہوں نے کہا کہ میٹنگ بہت لمبی ہوجائے گی۔ جب میں نے پوچھا کہ ہمارے بارے میں کیا پلان ہے تو انہوں نے مذاق میں کہا کہ میری آوازویسے بھی بہت تیز ہے۔

اسدالدین اویسی نے کیا کہا؟

 اویسی نے کہا کہ یہ بی جے پی یا کسی دیگرپارٹی کی داخلی میٹنگ نہیں ہے۔ ہم دہشت گردی اور دہشت گردوں کو پناہ دینے والے ممالک کے خلاف ایک مضبوط اور متحدہ پیغام بھیجنے کے لئے ایک آل پارٹی میٹنگ ہے۔ کیا وزیراعظم مودی سبھی پارٹیوں کی تشویش کو سننے کے لئے ایک اضافی گھنٹہ نہیں دے سکتے۔ آپ کی اپنی پارٹی کے پاس اکثریت نہیں ہے، چاہے وہ ایک رکن پارلیمنٹ والی پارٹی ہو یا 100 اراکین پارلیمنٹ والی۔ وہ دونوں ہندوستانی شہریوں کے ذریعہ منتخب کئے گئے ہیں اور اس طرح کے اہم معاملات پران کی بات سنی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی موضوع نہیں ہے، یہ ایک قومی موضوع ہے۔ سبھی کی بات سنی جانی چاہئے۔ میں وزیراعظم مودی سے گزارش کرتا ہوں کہ اسے حقیقی کل جماعتی اجلاس بنائیں، پارلیمنٹ میں اراکین پارلیمنٹ والی ہر پارٹی کو مدعو کیا جانا چاہئے۔

کیوں ہوتی ہے آل پارٹی میٹنگ؟

آل پارٹی میٹنگ یا کل جماعتی اجلاس کا فیصلہ بدھ کے روز لیا گیا۔ وزیردفاع راجناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امت شاہ نے اس سے متعلق مختلف پارٹیوں سے رابطہ کیا۔ قومی سلامتی پرسنگین اثرڈالنے والے کسی بھی واقعہ کے بعد آل پارٹی میٹنگ بلانے کی روایت رہی ہے، جیسا کہ 2019 میں پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد یا 2020 میں ہندوستان-چین تعطل کے دوران دیکھا گیا تھا۔ یہ بحران کے وقت قومی اتحاد کی تصویرپیش کرتا ہے اوراپوزیشن لیڈروں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے خیالات حکومت تک پہنچا سکیں اورسرکاری پوزیشن کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کریں۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Election Commission: ایس آئی آر تنازع کے درمیان سرگرم ہوا الیکشن کمیشن، سوشل میڈیا پر وضاحت اور قواعد میں رعایت دے کر اعتماد جیتنے کی کوشش

ایس آئی آر تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن سوشل میڈیا پر سرگرم ہوکر وائرل دعوؤں…

13 minutes ago

Border face-off: اروناچل پردیش میں آمنے سامنے کی صورت حال پر چین کا ردعمل، کہا-’’ہم معاہدے پر پوری طرح کررہے ہیں عمل‘‘

جمعہ کو ہندوستانی وزارت خارجہ نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی کے ساتھ…

44 minutes ago

Gold Price Fall Down: سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ! دکانوں کے باہر لمبی قطاریں، چین میں سونے کی خریداری کے لیے مچی ہوڑ

عالمی بازار میں سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ کے بعد شینزن کے شوبے گولڈ…

55 minutes ago

HRF calls for release of Mahrang Baloch: انسانی حقوق فاؤنڈیشن کا ماہ رنگ بلوچ کی رہائی کا مطالبہ، جیل میں مقدمے کی سماعت اور صحت پر تشویش

فاؤنڈیشن نے دہشت گردی کے الزامات کو ’سیاسی محرکات پر مبنی‘ قرار دیا، بلوچستان میں…

1 hour ago