قومی

AIMIM Chief Asaduddin Owaisi Statement: ہمیں وفاداری کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، وندے ماترم تنازعہ پر اسدالدین اویسی کا سخت ردعمل

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے وندے ماترم تنازعہ، پارلیمانی سیاست اور بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر کھل کر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے وفاداری کا سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

وندے ماترم تنازعہ پر بات کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ بھارت کا آئین ’’ہم بھارت کے لوگ‘‘ کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ کسی مخصوص نعرے سے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور ہر شخص کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک میں مذہبی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسدالدین اویسی نے واضح کیا کہ حب الوطنی کا تعلق کسی مخصوص نعرے یا عمل سے نہیں بلکہ آئین کی پاسداری سے ہے۔

انہوں نے اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو بھارت کا سیکولر کردار متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے اور اس کی اصل طاقت اس کی مذہبی اور ثقافتی تنوع میں ہے۔

پارلیمانی امور پر بات کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ لوک سبھا اسپیکر کے خلاف پیش کیے گئے عدم اعتماد کی تحریک سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو ان سے اس سلسلے میں مشورہ کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے کسی دستاویز پر دستخط کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے خلاف پیش کیے گئے استحقاق کی تحریک کا بھی کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔

آسام کے وزیراعلیٰ کے ایک مبینہ ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ عوامی عہدے پر فائز افراد کو ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات یا اقدامات معاشرے میں غلط پیغام دیتے ہیں اور اس سے عوام کے درمیان تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔

بابری مسجد تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے اسدالدین اویسی نے کہا کہ انہیں اب بھی اس فیصلے سے اختلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ ایک اہم ادارہ ہے، لیکن اختلاف رائے جمہوری عمل کا حصہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ کے بیان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سیاسی لیڈروں کو ذمہ دارانہ زبان استعمال کرنی چاہیے۔ اویسی کے مطابق ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلا جائے اور آئینی اصولوں کا احترام کیا جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

7 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

7 hours ago