قومی

Congress Leader Remarks: ’جیسی کرنی، ویسی بھرنی…‘ ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حملے کے حوالے سے کانگریس لیڈر نے کیوں کہا — ’’یہی ہونا تھا‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے جان لیوا حملے سے لے کر مہاراشٹر اور پنجاب کی سیاست تک، کانگریس کے لیڈر وجے وڈیٹیوار نے کئی اہم معاملات پر کھل کر اور سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ٹرمپ پر ہوئے حملے کو انہوں نے ’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘ قرار دیا۔ وہیں پنجاب میں ’آپریشن لوٹس‘ کی افواہوں کو انہوں نے مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے محض بکواس بتایا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے باگیشور دھام کے سربراہ دھیرندر شاستری کی جانب سے چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں دیے گئے متنازع بیان پر بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

‘ٹرمپ نے دنیا کو برباد کیا’

ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے پر ردِعمل دیتے ہوئے وجے وڈیٹیوار نے کہا کہ اقتدار میں رہتے ہوئے ٹرمپ نے دنیا پر قبضہ جمانے اور دیگر ممالک کو غیر مستحکم کرنے کا کام کیا۔ انہوں نے کہا، ’’جو جیسا کرے گا، ویسا بھرے گا… تاہم اعلیٰ ترین عہدے پر فائز شخص کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘وہیں باگیشور بابا پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’وہ کیسا مہاراج ہے، وہ ایک بھوندو ہے۔ اس نے مہاراشٹر آ کر احمقوں کی طرح شیواجی مہاراج کی توہین کی اور وہاں موجود حکمران خاموش رہے۔ اگر وزیرِ اعلیٰ اسی وقت اسے روک دیتے تو اس کی زبان بند ہو جاتی۔ جو شیواجی مہاراج کی توہین کرے گا، عوام اسے جواب دیں گے۔‘‘

پنجاب میں آپریشن لوٹس ’فلاپ‘

پنجاب میں ’آپریشن لوٹس‘ شروع ہونے کی خبروں کو انہوں نے فضول قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی پیسے کے زور پر کچھ بھی کر سکتی ہے، لیکن پنجاب میں ان کے پاس اراکینِ اسمبلی ہی نہیں ہیں۔

سنیترہ پوار کے بینرز پر تبصرہ

پونے میں سنیترہ پوار کو ’مستقبل کی وزیر اعلیٰ‘ قرار دینے والے بینرز پر طنز کرتے ہوئے وجے وڈیٹیوار نے کہا کہ یہ صرف کارکنوں کے جذبات ہیں، اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ انہوں نے بی جے پی کو ’راکشش‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دوسری جماعتوں کے لیڈروں کو ختم کرنے والی پارٹی ہے، اس لیے وہ کبھی کسی اور پارٹی کے لیڈر کو وزیر اعلیٰ نہیں بننے دے گی۔

ادھو-شندے کی ’خفیہ ملاقات‘ پر ثبوت کا مطالبہ

ورشا بنگلے پر رات 2 بجے ادھو ٹھاکرے اور وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی مبینہ خفیہ ملاقات پر بھی انہوں نے ردِعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی تصویر یا ثبوت کے اس بات کو سچ نہیں مانا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، ’’رات 2 بجے وہاں کون سا میڈیا موجود تھا؟ جب تک کوئی مضبوط ثبوت سامنے نہیں آتا، یہ صرف بحث کا موضوع ہے۔‘‘ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ موہت کمبوج کے پروگرام کے بعد سے دونوں لیڈروں کے درمیان قربت کی باتیں عوام میں عام ہو گئی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Minor gang-raped near Kalkaji Temple: کالکاجی مندر کے قریب نابالغ لڑکی سے اجتماعی زیادتی، انکاؤنٹر کے بعد ایک ملزم گرفتار

ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…

2 hours ago

Jain Acharya Lokesh Ji: سکندرآباد میں وکست بھارت 2047 سیمینار، آچاریہ لوکیش بولے- سناتن روایت کا اقدار ہی ترقی یافتہ بھارت کی فکری بنیاد

آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…

3 hours ago

UP 34 IAS Officers Transfer: اتر پردیش میں بڑا انتظامی ردوبدل، 34 آئی اے ایس افسران کے تبادلے، 14 اضلاع کو ملے نئے ڈی ایم

اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…

11 hours ago