بھارت ایکسپریس۔
ریاستی صدر عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد اروندر سنگھ لولی نے پریس کانفرنس کی۔ (تصویر: اے این آئی)
دہلی کانگریس کے صدرعہدے سے استعفیٰ قبول کئے جانے کے بعد سابق صدراروندرسنگھ لولی جذباتی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے دل کی تکلیف اوردرد اوردہلی کے تمام کانگریس کارکنان کے درد کواپنے صدرکوبھیجا ہے۔ میری تکلیف اصولوں سے متعلق ہے۔ میں نے استعفیٰ اپنے لئے نہیں دیا، کانگریس کے کارکنان کے لئے دیا ہے۔ انہوں نے دہلی پردیش کانگریس کے انچارج دیپک باوریا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دیپک باوریا کا شکریہ۔ اگر میرا استعفیٰ قبول ہوا ہے۔
انہوں نے اس کے ساتھ ہی کہا کہ وہ کسی پارٹی میں شامل نہیں ہونے جا رہے ہیں۔ اروندرسنگھ لولی نے کہا کہ کبھی کانگریس کے کارکنان نے یہ نہیں کہا کہ موجودہ کیجریوال حکومت کو ہم نے کلین چٹ دی ہے۔ ہمارا رخ ہمیشہ سےہی الائنس کے ساتھ لڑنے کا تھا۔
اروندرسنگھ لولی کا چھلکا درد
گاندھی کے سابق رکن اسمبلی اروندرسنگھ لولی نے کہا کہ انہوں نے یہ قدم اس لئے نہیں اٹھایا، کیونکہ انہیں ٹکٹ نہیں ملا اور یہ صرف ان کی حالت زاربلکہ کانگریس کی حالت ہے۔ انہوں نے کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے کو خط میں اپنی شکایتیں لکھی تھیں۔ افواہوں کو درکنار کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کے استعفیٰ کے پیچھے ٹکٹ تقسیم وجہ نہیں ہے اور یہ ”اصولوں کی وجہ“ سے تھی۔ لولی نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 30 سابق اراکین اسمبلی نے ان سے ملاقات کی ہے اوراپنی حمایت دی ہے۔
یہ کانگریس کارکنان کا جنون ہے: لولی
دہلی کے سابق صدر نے کہا، ”یہ اروندرسنگھ لولی کا جذبہ نہیں ہے، بلکہ یہ کانگریس کارکنان کا جذبہ ہے۔ میں اعلیٰ کمان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے میرا استعفیٰ قبول کرلیا۔ میں سوربھ بھاردواج کو ان کے الفاظ کے لئے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔“
اروندرسنگھ لولی نے بتائی استعفیٰ کی وجہ
اروندرسنگھ لولی تقریباً 8 ماہ اس عہدے پررہے۔ انہوں نے کہا کہ ان 8 مہینوں میں پارٹی نے مجھے جو ذمہ داریاں دیں، اسے میں نے بخوبی نبھایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دہلی کانگریس میں سینئرلوگوں کی تقرریوں کی اجازت مانگی تھی، لیکن پارٹی نے انکارکردیا۔ میں نے ترجمان کی تقرری سے متعلق کہا، لیکن منع کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ الائنس کے لحاظ سے پارٹی کو صرف تین سیٹیں دی گئیں۔
کنہیا کمار سے متعلق بھی ناراض تھے اروندر سنگھ لولی
اس کے علاوہ کنہیا کمار کا ذکرکرتے ہوئے اروندرسنگھ لولی نے لکھا، شمال-مشرقی دہلی سے امیدوار(کنہیا کمار) پارٹی لائن اورحقیقت کی تردید کرتے ہوئے وہ دہلی کے وزیراعلیٰ کی جھوٹی تعریف کر رہے ہیں اور میڈیا میں بیان دے رہے ہیں۔ انہوں نے دہلی کے شہریوں کے درد اورتکلیف کو نہ دیکھتے ہوئے تعلیم، صحت، سڑک اوربجلی کے محکموں میں کئے گئے مبینہ کاموں سے متعلق عام آدمی پارٹی کی جھوٹی تشہیرکی حمایت کی۔
بھارت ایکسپریس۔
گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر سدھا یادو کی وزیر اعظم نریندر مودی سے…
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے…
گجرات کے دو روزہ دورے کے دوران بناس کانٹھا ضلع میں 407.56 کروڑ روپے کی…
مدھیہ پردیش کے ڈنڈوری میں بنیادی سہولیات کی کمی کی ایک افسوسناک تصویر سامنے آئی…
نئے ضابطوں میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ کسی امیدوارکے خلاف محض ایف…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آندھرا پردیش، پڈوچیری، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ کے وزرائے…