قومی

Delhi Liquor Policy Case: دہلی شراب پالیسی کیس: عدالت سے بری ہونے کے بعد اروند کیجریوال جذباتی، میڈیا کے سامنے روپڑے

نئی دہلی :دہلی ایکسائز پالیسی معاملے میں عدالت سے بریت ملنے کے بعد عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال شدید جذباتی ہوگئے اور صحافیوں سے گفتگو کے دوران آبدیدہ نظر آئے۔ عدالت کے فیصلے کے فوراً بعد جب وہ میڈیا سے بات کرنے آئے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔اروند کیجریوال نے کہا کہ جس معاملے کو شراب گھوٹالہ قرار دے کر ان پر الزامات عائد کیے گئے تھے، آج عدالت نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچ ہمیشہ جیتتا ہے اور وہ معزز جج کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے انصاف فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خدا نے بھی ان کے ساتھ انصاف کیا ہے۔جذباتی انداز میں کیجریوال نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں انہیں ایک فرضی مقدمے میں پھنسایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد بھارت کی تاریخ میں پہلی بار کسی حاضر سروس وزیر اعلیٰ کو اس طرح گھر سے نکالا گیا۔ ان کے مطابق عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ بے بنیاد تھا۔

رونے کے دوران کیجریوال نے کہا کہ ’’کیجریوال بدعنوان نہیں ہے‘‘ اور عدالت نے ثابت کر دیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے لیے آئین کے ساتھ اس طرح کا کھیل نہ کھیلا جائے۔

عدالت کا فیصلہ کیا رہا؟

دہلی کی مبینہ ایکسائز پالیسی بدعنوانی کیس میں راؤز ایونیو کورٹ کی خصوصی عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا سمیت تمام ملزمان کو الزامات سے بری کر دیا۔ یہ حکم خصوصی جج جتیندر سنگھ نے جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی تحقیقات پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیجریوال اور منیش سسودیا کو بغیر مضبوط شواہد کے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔ عدالت کے مطابق تفتیشی ایجنسی کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں کئی خامیاں موجود تھیں اور الزامات کسی معتبر گواہی یا ثبوت سے ثابت نہیں ہو سکے۔

عدالت نے واضح طور پر کہا کہ منیش سسودیا کے خلاف ابتدائی طور پر بھی مقدمہ قائم کرنے کے لیے مناسب مواد پیش نہیں کیا جا سکا، جبکہ اروند کیجریوال کو بھی ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد کے بغیر کیس میں شامل کیا گیا۔ عدالت نے تمام 23 ملزمان کو بری کرتے ہوئے کسی کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے سے انکار کر دیا اور تحقیقات کے طریقہ کار پر بھی سخت ناراضی ظاہر کی۔اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے قومی سیاست پر اثرات نمایاں ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

2 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

3 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

3 hours ago