جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوچکا ہے اور تیاریاں بھی اپنے شباب پر ہے ، اس بیچ حکام نے بتایا کہ مرکز نے اب تک نیم فوجی دستوں کی تقریباً 300 کمپنیاں وادی کشمیر میں انتخابی ڈیوٹی کے لیے تعینات کی ہیں۔ یہ کمپنیاں سری نگر، ہندواڑہ، گاندربل، بڈگام، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، اننت ناگ، شوپیاں، پلوامہ ، اونتی پورہ، اور کولگام میں تعینات کی گئی ہیں۔نیم فوجی دستوں کی 298 کمپنیاں جن میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس، بارڈر سیکورٹی فورس،ایس ایس بی اور انڈو تبت بارڈر پولیس شامل ہیں، وادی کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے یہ تعیناتی کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق سری نگر میں سب سے زیادہ کمپنیاں (55) ہیں، اس کے بعد اننت ناگ (50)، کولگام (31)، بڈگام، پلوامہ، اور اونتی پورہ پولیس اضلاع (ہر ایک میں 24)، شوپیاں (22)، کپواڑہ (20) ہیں، بارہمولہ (17)، ہندواڑہ 15، بانڈی پورہ 13، اور گاندربل (3) کمپنیاں تعینات ہیں۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں پانچ سال بعد انتخابات ہو نے والے ہیں، آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر جمہوری حکومت بننے جا رہی ہے۔ انتخابات تین مرحلوں میں ہوں گے اور نتائج کا اعلان 4 اکتوبر کو کیا جائے گا۔ اب جموں و کشمیر میں تین چار جماعتوں بی جے پی، نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ ہونے والا ہے۔ لیکن مقابلہ دو پارٹیوں کے درمیان بھی ہو سکتا ہے اگر این سی، پی ڈی پی اور کانگریس اتحاد کرتے ہیں۔ فی الحال، تمام پارٹیاں اپنی اپنی دعویداری کو مضبوط کرنے میں مصروف ہیں، اور اس میں پوری توجہ جموں و کشمیر کے لوگوں کا دل جیتنے پر ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
عام آدمی پارٹی کی قومی ترجمان پرینکا ککڑکانگریس میں شامل ہوگئی ہیں۔ انہوں نے عام…
بھارت اپنی خام تیل کی ضرورت کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ ایسے میں…
پاکستان کے خلاف کامیابی کے ساتھ ہی بھارت نے ایشین گیمز میں اپنا 19واں گولڈ…
پرنوی شرتھ کا تعلق بنگلورو سے ہے اور انہوں نے صرف 5 سال کی عمر…
بی جے پی کے سینئر رہنما ونود تاوڑے نے ہندی میں سوشل میڈیا پوسٹ شیئر…
ممبئی کے احتجاج میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ اگر…