قومی

BharatExpressMegaConclave2026: اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے اپوزیشن کیوں بھاگ رہی ہے؟ ارجن رام میگھوال نے  بھارت ایکسپریس کانکلیو کے منچ سےکیا سوال

بھارت ایکسپریس کے کانکلیو میں مرکزی وزیر برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے اپوزیشن، خاص طور پر کانگریس، پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کانگریس پر آئین مخالف پالیسیوں کو اپنانے کا الزام لگایا اور ایمرجنسی کے دور کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوران مسلسل ہونے والے ہنگامے کو لے کر بھی انہوں نے اپوزیشن کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

میگھوال نے کہا کہ جمہوری اداروں کا احترام کرنا تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے اور پارلیمنٹ کو بہتر طریقے سے چلانا ملک کے مفاد میں نہایت ضروری ہے۔

مودی حکومت میں کمزور طبقات کو فائدہ

آئینی ترمیم کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے میگھوال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں کی گئی آئینی ترامیم سماجی انصاف کو مضبوط بنانے والی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے سماج کے کمزور طبقات کو براہِ راست فائدہ پہنچا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ او بی سی کمیشن کو آئینی درجہ دینا اور معاشی طور پر کمزور طبقے (EWS) کے لیے 10 فیصد ریزرویشن نافذ کرنا ایسے اہم فیصلے ہیں جو سماجی انصاف اور مساوی مواقع کی سمت میں بڑے قدم ہیں۔

ایمرجنسی کے دوران آئین میں تبدیلیاں

ارجن رام میگھوال نے کانگریس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے دور حکومت میں آئین کا استعمال اقتدار بچانے کے لیے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران اُس وقت کی حکومت نے اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے آئین میں کئی تبدیلیاں کیں۔

انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جگموہن لال سنہا کے تاریخی فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے بعد اقتدار میں برقرار رہنے کے لیے اُس وقت کی حکومت نے آئین میں ترمیم کی، جو جمہوری اقدار کے خلاف تھا۔

پارلیمنٹ میں ہنگامے پر کیا کہا؟

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں ہونے والے ہنگامے پر بھی میگھوال نے اپوزیشن کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے والے اپوزیشن رہنما اب اسی تحریک پر بحث سے بچتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن کے اندر ہی اس معاملے پر تذبذب کی صورتحال ہے۔

قانون وزیر نے الزام لگایا کہ کچھ اپوزیشن رہنما پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ڈال کر افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں مکالمہ اور بحث ضروری ہے، لیکن بار بار ہنگامہ کر کے پارلیمنٹ کی کارروائی روکنا جمہوری روایات کے مطابق نہیں ہے۔

آخر میں میگھوال نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو صحیح طریقے سے چلانا اور جمہوری اداروں کا احترام کرنا ملک کے مفاد میں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Rupee jumps 56 paise to 93.91: ڈالر کے مقابلے روپے میں زبردست تیزی، 56 پیسے مضبوط ہوکر 93.91 پر بند

ڈیلروں کا کہنا تھا کہ غیر ملکی بینک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی…

22 minutes ago

Delhi AQI Today: دہلی-این سی آر میں آلودگی کی مار، گریپ-3 نافذ، اے کیو آئی 400 کے پار، ان گاڑیوں پر پابندی

محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) کے مطابق، ہفتہ 7 نومبر کو دہلی-این سی آر…

2 hours ago

Lucknow & Andaman Islands are symbols of courage: لکھنؤ اور انڈمان برطانوی اقتدار کے خلاف جرأت، قربانی اور حب الوطنی کی علامت: ڈاکٹر دنیش شرما

سیلولر جیل آزادی کے متوالوں پر ہونے والے ظلم، اذیت اور ان کی قربانیوں کی…

11 hours ago