اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ (APSEZ) نے جمعہ کو موندرا پورٹ پر ایک مخصوص خالی کنٹینر یارڈ (Empty Container Yard) قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس سہولت میں کنٹینر اسٹوریج کے ساتھ مربوط ویئر ہاؤسنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
لاجسٹکس کو تیز اور اخراجات کم کرنے کا مقصد
نئی سہولت میں خالی کنٹینرز کے اسٹوریج، معائنہ، دیکھ بھال اور اس کے بعد برآمد کنندگان اور کنٹینر فریٹ اسٹیشنز (CFSs) تک ان کی منتقلی کا انتظام کیا جائے گا۔ اے پی ایس ای زیڈ کے مطابق اس اقدام کا مقصد کنٹینر ہینڈلنگ کے عمل کو تیز کرنا اور غیر ضروری لاجسٹکس نقل و حرکت اور اس سے ہونے والے اخراجات کو کم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ اے پی ایس ای زیڈ کی ’Ambition 2031‘ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت کمپنی اگلے 5 برسوں میں اپنی کنٹینر ہینڈلنگ صلاحیت میں 6 ملین TEUs سے زیادہ کا اضافہ کرنا چاہتی ہے۔
بھارت کی کنٹینر تجارت میں موندرا کا بڑا حصہ
موندرا پورٹ بھارت کی تقریباً 35 فیصد کنٹینر تجارت کو ہینڈل کرتا ہے، جبکہ مالی سال 2026 (FY26) میں اے پی ایس ای زیڈ کی ملک کی کنٹینر مارکیٹ میں 45.5 فیصد حصہ داری رہی۔پورٹ پر ہر سال تقریباً 1.6 ملین TEUs خالی کنٹینرز کی پروسیسنگ کی جاتی ہے۔ نئی سہولت سے خالی کنٹینرز کے انتظام اور ان کی نقل و حرکت کو مزید منظم کرنے میں مدد ملے گی۔
’کنٹینر ایکو سسٹم مزید مضبوط ہوگا‘
اے پی ایس ای زیڈ کے ہول ٹائم ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اشونی گپتا نے کہا کہ یہ سہولت پورے کنٹینر ایکو سسٹم کو مزید مضبوط کرے گی اور تجارتی لاجسٹکس کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دے گی۔ اے پی ایس ای زیڈ اس وقت 16 بندرگاہوں اور ٹرمینلز کو چلاتی ہے اور اس کے پاس 136 بحری جہازوں کا بیڑا ہے۔ کمپنی کی موجودہ کارگو ہینڈلنگ صلاحیت 653 ملین ٹن سالانہ ہے، جو بھارت کے مجموعی بندرگاہی کارگو حجم کا تقریباً 27 فیصد ہے۔تاہم کمپنی نے 2030 تک اپنی مجموعی کارگو تھرو پٹ صلاحیت کو بڑھا کر 1 ارب ٹن تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…