ایران کے چیف جسٹس آیت اللہ غلام حسین محسنی اژئی (Ayatollah Gholam-Hossein Mohseni-Ejei) نے غزہ میں جاری تشدد کے معاملے پر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں 70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کی جان گئی، لاکھوں افراد مارے گئے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ ایرانی چیف جسٹس نے بین الاقوامی تنظیموں اور دنیا کے ان ممالک پر بھی سوال اٹھایا جو ان واقعات کے دوران خاموش رہے۔
خاموشی نے حملہ آور طاقتوں کا حوصلہ بڑھایا: چیف جسٹس
محسنی اژئی نے کہا کہ اگر بین الاقوامی تنظیمیں اور آزادی پسند لوگ وقت رہتے غزہ میں ہونے والی مبینہ زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھاتے تو شاید آج کچھ طاقتوں کو دوسرے ممالک پر غیر قانونی حملے کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ ان کے مطابق مسلسل خاموشی نے حملہ آور طاقتوں کا حوصلہ بڑھایا ہے۔
’70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کا قتل عام ہوا‘
ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ غزہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کے علاوہ اس سے کئی گنا زیادہ افراد زخمی ہوئے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’دہشت گرد قاتلوں نے غزہ میں 70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کا قتل عام کیا، لاکھوں لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ افراد کو زخمی کیا۔‘‘
Delhi: Chief Justice of Iran, Ayatollah Gholam-Hossein Mohseni-Eje’i, says, “Could one remain indifferent in the face of all these atrocities? If international organisations and all freedom-loving people had stood up against the day when these terrorist killers massacred more… https://t.co/8nqsqWm70A pic.twitter.com/591mq5Vr8r
— ANI (@ANI) September 3, 2026
محسنی اژئی نے مزید کہا کہ ان واقعات کے باوجود کچھ لوگ اپنے کیے پر فخر کر رہے ہیں اور اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے ممالک سے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمام ممالک مل کر کام کریں اور ایک دوسرے کا تعاون کریں تو چند طاقتور ممالک اپنی من مانی نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک دن ایران، دوسرے دن افغانستان، پھر لبنان اور غزہ جیسے ممالک پر حملے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایسی طاقتوں کو وقت رہتے نہ روکا گیا تو مستقبل میں دوسرے ممالک بھی ان کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔
عالمی برادری کی خاموشی پر سوال
ایرانی چیف جسٹس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں طویل عرصے سے جاری تنازع اور انسانی بحران پر عالمی سطح پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کے بیان نے ایک بار پھر غزہ میں پیدا ہونے والے انسانی بحران اور بین الاقوامی برادری کے کردار کو لے کر بحث تیز کر دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…