نئی دہلی : بھارت کی سپریم کورٹ نے این سی ای آر ٹی کی کلاس 8 کی سماجی علوم کی کتاب کے ایک متنازعہ باب کو لکھنے والے تین ماہرین تعلیم کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے ان کے خلاف پہلے جاری کردہ سخت ہدایت واپس لے لی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب مائیکل ڈینینو، سپرنا دیواکر اور آلوک پرسننا پر کسی بھی سرکاری یا سرکاری امداد یافتہ ادارے میں کام کرنے کی پابندی ختم ہو گئی ہے۔یہ فیصلہ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بینچ نے سنایا۔ عدالت نے اپنے سابقہ حکم کے اس حصے کو حذف کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان تینوں ماہرین تعلیم کو کسی بھی سرکاری امداد یافتہ ادارے میں ملازمت نہ دی جائے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ متنازعہ باب لکھتے وقت ان کی نیت میں کوئی بدنیتی شامل نہیں تھی اور یہ مواد کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ اجتماعی علمی عمل کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اس معاملے میں مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں ہوگا۔
دوسری جانب عدالت نے واضح کیا کہ تعلیمی مواد میں توازن اور غیر جانبداری ضروری ہے۔ بینچ نے نشاندہی کی کہ متنازعہ باب میں عدلیہ میں کرپشن کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا تھا، جبکہ عدلیہ کے مثبت پہلوؤں جیسے قانونی خدمات تک رسائی اور ججوں کے کردار کو نظر انداز کیا گیا۔سپریم کورٹ نے اس سے قبل اس باب پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے نصاب سے ہٹانے اور تمام کاپیاں واپس لینے کا حکم دیا تھا۔ تاہم تازہ فیصلے میں عدالت نے کہا کہ اب ان ماہرین کے خلاف کسی قسم کی انتظامی یا روزگار سے متعلق پابندی برقرار نہیں رہے گی۔درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکلا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے موضوعات پر کھلی بحث طلبہ کی تعلیمی ترقی کے لیے ضروری ہے اور انہیں حقیقت پسندانہ معلومات سے دور رکھنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقصد عدلیہ یا کسی ادارے کی تضحیک نہیں بلکہ تعلیمی فہم پیدا کرنا تھا۔
اسی دوران حکومت نے عدالت کو بتایا کہ وہ فی الحال ان ماہرین کو اسکولی تعلیم سے متعلق کسی کام میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کوئی قانونی پابندی موجود نہیں ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا، جب این سی ای آر ٹی کی کتاب میں “عدلیہ میں کرپشن” کے عنوان سے ایک باب شامل کیا گیا، جس پر شدید اعتراضات اٹھے اور سپریم کورٹ نے اسے متنازع قرار دیتے ہوئے سخت ریمارکس دیے تھے۔ بعد ازاں اسی تنازع کے باعث ماہرین تعلیم کے خلاف کارروائی کی گئی، جسے اب عدالت نے واپس لے لیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے میں جہازوں پر حملوں کے مسلسل واقعات بھارت کے…
پی ایم او نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’بھارت سے آبی حکمرانی کا ایک ایسا ماڈل…
مظفر نگر کے طالب کو میرٹھ کی ذاکر کالونی میں قتل کیا گیا، بیوی علمہ…
ہرمن پریت نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ کے ذریعے تمام…
انڈیا اتحاد کے اس احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار…
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ’انڈیا‘ بلاک کے تقریباً 300…