قومی

APCR condemns the rejection of bail: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کیے جانے پر اے پی سی آر کی تنقید، تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

نئی دہلی: ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) نے دہلی فسادات کے معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے اس کیس میں پیر کے روز اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں تھیں، جبکہ دیگر ملزمان گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم، شفاء الرحمٰن اور شاداب احمد کو بارہ سخت شرائط کے ساتھ ضمانت دے دی گئی۔

ضمانت پر رہائی کا خیر مقدم

اے. پی. سی. آر نے گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم، شفاء الرحمٰن اور شاداب احمد کی ضمانت پر رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ میران حیدر، محمد سلیم اور شاداب احمد کے مقدمات میں اے. پی. سی. آر نے بھرپور قانونی معاونت اور مسلسل پیروی انجام دی۔ برسوں تک بغیر مقدمہ چلے قید میں رہنے کے بعد ان کی رہائی ایک حد تک راحت کا باعث ہے، تاہم عمر خالد اور شرجیل امام کی مسلسل قید اس راحت کو متاثر کرتی ہے۔ اے. پی. سی. آر کے مطابق عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کا انکار ناانصافی، غیر متناسب سلوک اور ٹھوس قانونی بنیادوں سے عاری ہے۔ سپریم کورٹ نے یو. اے. پی. اے کے تحت ضمانت کے سخت معیار کا اطلاق کرتے ہوئے ملزمان کے درمیان انتخابی تفریق کو جائز قرار دیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ ’’ہر ملزم ایک ہی درجے پر نہیں ہے‘‘۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ مقدمے میں طویل تاخیر بذاتِ خود ضمانت کی بنیاد نہیں بن سکتی، چاہے برسوں میں ٹرائل میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی ہو۔

آئین ہند کے بنیادی حقوق کو شدید نقصان

میڈیا کو جاری کئے گئے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اے پی سی آر کے نزدیک یہ طرز فکر قبل از سماعت قید کو غیر معینہ مدت تک معمول بنانے کے مترادف ہے، جو شخصی آزادی، بے گناہی کے اصول اور آئین ہند کے بنیادی حقوق کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ تنظیم اس امر پر زور دیتی ہے کہ ضمانت قاعدہ ہے اور قید استثنا، مگر یو اے پی اے کے تحت اس اصول کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام چار سال سے زائد عرصہ بغیر کسی سزا کے جیل میں گزار چکے ہیں۔ بغیر مکمل ٹرائل کے ضمانت سے انکار دراصل جرم ثابت ہونے سے پہلے سزا دینے کے مترادف ہے اور اختلاف رائے کو جرم بنانے کی ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔ اس طویل قید پر حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ 2 جنوری 2025 کو امریکہ کے متعدد قانون سازوں نے بھارتی سفیر کو خط لکھ کر عمر خالد کی رہائی اور منصفانہ ٹرائل کا مطالبہ کیا، جبکہ 3 جنوری 2025 کو نیویارک سٹی کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی نے عوامی طور پر عمر خالد سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ ردِ عمل بھارت میں یو اے پی اے کے استعمال پر بڑھتی ہوئی عالمی نگرانی کی عکاسی کرتا ہے۔ اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ یو اے پی اے کے تحت طویل قید اب ایک احتیاطی اقدام نہیں بلکہ سزا کے متبادل کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے۔ اگرچہ تنظیم پانچ ملزمان کو دی گئی ضمانت کا خیر مقدم کرتی ہے، تاہم وہ اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ عائد کی گئی بارہ سخت شرائط نگرانی، ہراسانی یا آواز دبانے کاذریعہ نہ بنیں۔ مشروط آزادی ایسی نہیں ہونی چاہیے جو عملی طور پر آزادی کی نفی بن جائے۔ اس سلسلے میں اے پی سی آر نے اپنے کچھ مطالبات بھی رکھیں ہیں جس کے تحت:

* عمر خالد اور شرجیل امام کی فوری رہائی کو یقینی بنایا جائے۔

* تمام سیاسی قیدیوں کی غیر مشروط آزادی۔

* اختلاف رائے اور جمہوری اظہار کو دبانے کے لیے یو اے  پی اے کے غلط استعمال کا خاتمہ۔

* وقت کی پابندی کے ساتھ منصفانہ ٹرائل اور طویل قید پر سخت عدالتی نگرانی۔

* اے پی سی آر سیاسی اختلاف یا نظریاتی مؤقف کی بنیاد پر قید تمام افراد کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے ۔

* عمر خالد اور شرجیل امام کی مسلسل قید آئینی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہے، جسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔

* آزادی کوئی رعایت نہیں، بلکہ ایک بنیادی حق ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

38 minutes ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

45 minutes ago

Delhi HC Order: پی ایم مودی کے ساتھ اپنی مبینہ ڈیپ فیک تصویر سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے دیا یہ حکم

عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…

2 hours ago