قومی

APCR strongly condemns demolitions in Varanasi’s Dal Mandi: اترپردیش میں عدالتی احکامات کے باوجود زبردستی انہدامی کارروائیاں ؟ وارانسی کی دال منڈی مارکیٹ میں  انہدامی کارروائی پراے پی سی آر نے کی سخت مذمت،  فوری طور پر روکے جانے کا کیا مطالبہ

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس (APCR) نے وارانسی کی تاریخی دال منڈی مارکیٹ میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری انہدامی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، اے پی سی آر  کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں رہائشی و تجارتی املاک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ عدالت کے واضح احکامات اور ’’حق برائے منصفانہ معاوضہ اور شفافیت در حصول اراضی، بازآبادکاری و بحالی ایکٹ 2013‘‘ کی دفعات کے باوجود مقامی انتظامیہ روزانہ بلڈوزر مہم جاری رکھے ہوئے ہے، جو متاثرین کے روزگار اور رہائش کے حق کو براہِ راست خطرے میں ڈال رہی ہے۔انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم رہنے والی تنظیم اے پی سی آر نے جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’20مئی 2025 کو وارانسی کے ضلع مجسٹریٹ نے ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ دال منڈی روڈ کو چوڑا کرنے اور مضبوط بنانے کے لیے زمین کا حصول یا تو باہمی رضامندی سے کیا جائے گا یا پھر قانونی دائرے میں رہتے ہوئے لازمی حصول کے طریقے سے حاصل کریں گے۔ حلف نامے میں یہ بھی واضح طور پر کہا گیا تھا اور بھروسہ دلایا گیا تھا کہ قانونی تقاضوں کی تکمیل اور منصفانہ معاوضے کی ادائیگی کے بغیر کسی قسم کی انہدامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ جبکہ 8 ستمبر 2025 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ فریقین بشمول پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ، میونسپل کارپوریشن اور ضلع مجسٹریٹ کو واضح احکامات دیے تھے کہ جب تک قانونی طریقۂ کار کی مکمل پاسداری نہ ہو، کسی بھی جائیداد کو منہدم یا خالی نہ کرایا جائے۔‘‘

موجودہ عدالت کے اسٹے آرڈرز کو بھی تسلیم کرنے سے مقامی انتظامیہ نے انکار کر دیا؟

جاری بیان میں کہا گیا   کہ ، ’’باوجود اس کے 31 اکتوبر 2025 کو وارانسی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (VDA) کے افسران پولیس کے ہمراہ علاقے میں پہنچے اور زبانی انہدامی احکامات جاری کر جبراً بے دخلی اور انہدامی کارروائی کرنے لگے، یہ کارروائی بغیر کسی تحریری نوٹس یا دستاویز کے کی گئی، حتیٰ کہ موجودہ عدالت کے اسٹے آرڈرز کو بھی تسلیم کرنے سے مقامی انتظامیہ نے انکار کر دیا۔جس کے بعد یکم نومبر 2025 کو متاثرہ فریقین کی جانب سے غیر قانونی و جبری کارروائیوں کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرائی گئی تھی اور غیر جانب دارانہ تفتیش کا مطالبہ کیا گیا، اس کے باوجود 10 نومبر 2025 کی رات دوبارہ بلڈوزر مہم شروع کر دی گئی، جس سے متاثرہ برادریوں اور دکانداروں میں خوف و اضطراب کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔‘‘

اس درمیان اے پی سی آر نے ایک بیان جاری کر اپنے مطالبات رکھے ہیں جس کے مطابق:

  1. جب تک تمام انہدامی کارروائی کو قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کو ملحوز خاطر رکھتے ہوئے نہ کیا جائے، اس وقت تک انہدامی کارروائی کو روک دیا جائے۔
  2. وی ڈی اے افسران کی غیر قانونی کارروائیوں اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر شفاف اور غیر جانب دارانہ انکوائری کی جائے۔
  3. انصاف کے تقاضوں کے تحت متاثرین کو کسی بھی جاری کیے گئے انہدامی احکامات کی مصدقہ نقول (کاپی) فراہم کی جائیں۔
  4. رہائشیوں اور تاجروں کو قانونی حق کے مطابق نوٹس، سماعت اور معاوضے کی ضمانت دی جائے۔

جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ، ’’اے۔ پی۔ سی۔ آر کا ماننا ہے کہ زبردستی کی انہدامی کارروائیاں نہ صرف شہریوں کے آئینی و بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ وارانسی کے تاریخی و سماجی تانے بانے کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔‘‘ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس (APCR) نے انصاف، شفافیت اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

3 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

4 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

5 hours ago