ممبئی یونیورسٹی کے کوواس جی جہانگیر کنوکیشن ہال میں ’’سالانہ لوک ستہ لیکچر‘‘ کا انعقاد ہوا جہاں سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی نے Affirmative Action یا مساوی مواقع کیلئے مثبت اقدام کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔ لیکچر کا انعقاد 6 دسمبر 2025 کو جب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے یوم وفات پر ہوا۔ جسٹس گوئی نے اسے ’’صرف اتفاق نہیں بلکہ علامتی یاد دہانی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے مساوی حقوق کے نظریے کو ’’آئینی دل‘‘ اور Affirmative Action کو ’’آئینی مشینری‘‘ قرار دیا تھا۔
Affirmative Action کی بنیادی تشریح
اپنے خطاب میں جسٹس گوئی نے Affirmative Action کو موقع پرستی کا نظام یا ’’سیاسی رعایت‘‘ قرار دینے کو سختی سے مسترد کیا۔ انہوں نے کہا: ’’جب آغاز ناہموار ہو، تو یکساں قانون انصاف پیدا نہیں کرتا بلکہ ناانصافی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔‘‘ ’’قانون سب کیلئے ایک جیسا ہونا چاہیے، لیکن زندگی سب کیلئے ایک جیسی نہیں۔‘‘ انہوں نے اس عمل کو تاریخی محرومیوں کی تلافی، اداروں کی نمائندگی میں تنوع اور پسماندہ طبقات کی ادارہ جاتی رسائی کو فروغ دینے کا ذریعہ قرار دیا۔
مہاراشٹر: آزاد ہندوستان سے پہلے کا سماجی انصاف کا مرکز
جسٹس گوئی نے کہا کہ Affirmative Action کا نظریہ آئین لکھے جانے کے بعد نہیں بلکہ اس سے کئی دہائیاں پہلے مہاراشٹر میں جنم لے چکا تھا۔ اہم مثالیں: 1902 میں چھترپتی شاہو جی مہاراج نے پہلی مرتبہ 50 فیصد سرکاری نوکریاں پسماندہ طبقات کیلئے مخصوص کیں۔ جوتی با اور ساوتری بائی پھولے نے تعلیم، خواتین کے حقوق اور ذات پات پر مبنی امتیاز کے خلاف عملی جدوجہد کی۔ جسٹس گوئی کے مطابق یہ اقدامات ’’آئین سے پہلے کا سماجی انصاف‘‘ تھے۔
پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی آئینی جدوجہد
خطاب میں جسٹس گوئی نے آزادی کے بعد ہونے والے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدا میں عدالتیں ریزرویشن کو ’’برابری کے اصول سے انحراف‘‘ سمجھتی تھیں۔ لیکن NM Thomas کیس (1976)، Indra Sawhney فیصلہ (1992) نے واضح کیا کہ ریزرویشن مساوات کا مخالف نہیں، بلکہ اس کا مکمل حصہ ہے۔ انہوں نے کہا: ’’Affirmative Action آئین میں ایک استثنیٰ نہیں، بلکہ مساوات کی اصل تشریح ہے۔‘‘
Sub-classification اور Creamy Layer پر اہم اشارہ
انہوں نے 2024 کے Sub-classification فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ: ’’ایسی پالیسیاں لازم ہیں جو پسماندہ طبقات میں بھی سب سے زیادہ کمزور طبقات کو ترجیح دیں۔‘‘ ’’لیکن یہ نظریہ اس بات کا متبادل نہیں کہ کچھ طبقات ریزرویشن کے حق سے محروم کر دیے جائیں۔‘‘ انہوں نے SC طبقات میں ’’creamy layer‘‘ کے تصور پر مزید بحث کو ضروری مگر محتاط عمل قرار دیا۔
’’مساوات کو زندہ رکھنے کیلئے قانون کافی نہیں، ارادہ چاہیے‘‘
جسٹس گوئی نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی سول سروس میں شمولیت، عالمی اداروں میں نمائندگی اور یونیورسٹیوں میں داخلہ نے ملک کے سماجی ڈھانچے میں نظریاتی نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی پیدا کی ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سابق چیف جسٹس نے کہا: ’’Affirmative Action بغیر Anti-discrimination نظام کے ادھوری کوشش ہے۔ داخلہ کافی نہیںوقار، حفاظت اور برابری بھی ضروری ہے۔‘‘ شرکاء نے لیکچر کو ’’سماجی انصاف اور آئینی اخلاقیات پر آج کے دور کا سب سے اہم خطاب‘‘ قرار دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…