نئی دہلی : انکیتا بھنڈاری کے والدین کو دہلی پولیس نے دیر رات انڈیا گیٹ سے حراست میں لے لیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر دشینت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے کے بعد انکیتا کے والدین دہلی کے انڈیا گیٹ پر احتجاج کر رہے تھے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی بھی ان کی حمایت میں احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔ والدین کو حراست میں لیے جانے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما ابھیجیت دیپکے نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔
صبح 4 بجے انڈیا گیٹ سے ہٹائے گئے والدین
#WATCH | Ankita Bhandari murder case | Delhi | Ankita Bhandari’s mother says, “We want to state that we will remain steadfast until his (Dushyant Gautam) appointment is revoked… If we are not permitted to sit here, we will sit on a hunger strike in our own homes…”
Her father says, “We give the government a 24-hour ultimatum: the appointment of Dushyant Kumar as the Governor of Sikkim must be cancelled. If it is not revoked, the people across the entire country will take to the streets, and the government will be held responsible”
— ANI (@ANI) October 15, 2026
ابھیجیت دیپکے نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دہلی پولیس نے صبح تقریباً 4 بجے انکیتا بھنڈاری کے والدین کو زبردستی انڈیا گیٹ سے ہٹا دیا۔ انہوں نے اس واقعے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ہم سب کے لیے شرم کی بات ہونی چاہیے۔ انکیتا بھنڈاری کے والدین ایسے غیر انسانی سلوک کے مستحق نہیں ہیں۔ حکومت اپنے ہی شہریوں کے ساتھ اتنی بے رحمی کیوں کر رہی ہے؟
नरेंद्र मोदी ने सुबह 4 बजे पुलिस भेजकर अंकिता के माता-पिता को गिरफ्तार करवा दिया.
‘VIP’ दुष्यंत गौतम को बचाने के लिए नरेंद्र मोदी ने हद पार कर दी है.
पहले उसे राज्यपाल बना दिया, अब जब अंकिता के माता-पिता इंसाफ मांग रहे हैं तो उनकी आवाज को कुचला जा रहा है.
शर्मनाक! https://t.co/sVpYdYTBGP
— Congress (@INCIndia) October 15, 2026
حراست میں لیے جانے کے چند گھنٹے بعد والدین رہا
This should make us all ashamed!
Ankita Bhandari’s parents don’t deserve such inhuman treatment. Why is the govt treating its own citizens with such cruelty?
#JusticeForAnkitaBhandari
— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) October 15, 2026
انکیتا بھنڈاری کے والدین کو حراست میں لیے جانے کے چند گھنٹے بعد رہا بھی کر دیا گیا۔ کانگریس کے مطابق، انکیتا کے والدین ایک رشتہ دار کے گھر رہنے چلے گئے ہیں۔ حراست میں لیے جانے کے بعد دہلی پولیس انہیں تلک نگر تھانے لے گئی تھی۔انکیتا کے والد نے حکومت اور متعلقہ نظام کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اگر حکومت 24 گھنٹے کے اندر دشینت گوتم کو گورنر کے عہدے سے نہیں ہٹاتی تو ملک بھر میں لوگ سڑکوں پر اتر کر احتجاج کریں گے۔ انہوں نے اس صورت حال کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بات بھی کہی ہے۔
अंकिता भंडारी हत्याकांड में BJP के राष्ट्रीय महासचिव व उत्तराखंड प्रभारी रहे दुष्यंत गौतम का नाम सामने आया था। अंकिता पर दुष्यंत गौतम को सर्विस देने का दबाव बनाया गया और जब उसने मना किया तो उसकी हत्या कर दी गई। इस खुलासे के बाद मोदी को दुष्यंत गौतम को सजा दिलानी चाहिए थी, लेकिन मोदी ने अपने इस चहेते को सिक्किम का राज्यपाल बना दिया है। एक बार फिर BJP और मोदी महिलाओं का शोषण करने वालों का साथ दे रहे हैं। शर्म आनी चाहिए।
— Uttarakhand Congress (@INCUttarakhand) October 14, 2026
کیا ہے انکیتا بھنڈاری قتل کا معاملہ؟
انکیتا بھنڈاری 19 سالہ لڑکی تھی، جو اتراکھنڈ میں رشی کیش کے قریب ایک ہوٹل میں استقبالیہ پر کام کرتی تھی۔ 18 ستمبر 2022 کو اس کا قتل کر دیا گیا تھا، جب کہ 24 ستمبر 2022 کو اس کی لاش چیلا نہر سے برآمد ہوئی تھی۔اس معاملے میں ریزورٹ کے مالک پُلکت آریہ، جو بی جے پی کے سابق لیڈر ونود آریہ کا بیٹا ہے، اور اس کے دو منیجر سوربھ بھاسکر اور انکت گپتا کو نچلی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔حال ہی میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ان تینوں کی ضمانت کی درخواستیں بھی مسترد کر دی تھیں۔ انکیتا کے والدین دشینت گوتم کو سکم کا گورنر بنائے جانے کے بعد سے احتجاج کر رہے ہیں اور اس معاملے میں انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
ایشیائی کھیل 2026 کی تمغوں کی فہرست میں چین نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ چین…
اس سے قبل گزشتہ ماہ 26 ستمبر کو مہاراشٹر کے پال گھر ضلع میں بھی…
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 16 اکتوبر کو دہلی کے کناٹ پلیس…
یوپی نیوز: غازی پور کے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کے تین اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے…
اتر پردیش میں تین سطحی پنچایت انتخابات کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ نے…
اے سی پی وویک بھگت کی شکایت پر کارروائی، ذات سے متعلق مبینہ توہین آمیز…