دہلی میں 3 اکتوبر کو ایک احتجاج کی کوریج کے دوران دہلی پولیس اور تین خاتون صحافیوں کے درمیان شروع ہونے والا تنازع اب ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر نئی دہلی ضلع کے بوٹا سنگھ گول چکر پر احتجاج کے دوران تین خاتون صحافیوں نے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) وویک بھگت پر ڈیوٹی کے دوران بدسلوکی، ہاتھا پائی اور جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات لگائے تھے۔ اب پولیس نے انہی خاتون صحافیوں کے خلاف مبینہ طور پر ذات سے متعلق توہین آمیز تبصرے کرنے اور دیگر الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
اے سی پی وویک بھگت کی شکایت پر کارروائی
پولیس کے مطابق، خاتون صحافیوں کے خلاف یہ مقدمہ اے سی پی وویک بھگت کی شکایت پر درج کیا گیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، وویک بھگت نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ ایک صحافی نے ان کے نام کی تختی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی ذات اور تقرری کے بارے میں توہین آمیز باتیں کہیں۔ شکایت میں پولیس افسر نے خود کو درج فہرست ذات (ایس سی) برادری سے تعلق رکھنے والا بتایا ہے۔ اسی شکایت کی بنیاد پر تینوں خاتون صحافیوں کو ملزم بناتے ہوئے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور مجرمانہ ہتک عزت سمیت مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
خاتون صحافیوں نے پولیس پر کیا الزامات لگائے؟
خاتون صحافیوں کا الزام تھا کہ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کی کوریج کرتے وقت ایک افسر نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں غلط طریقے سے چھوا۔ شکایت درج ہونے کے بعد صحافیوں کا طبی معائنہ کرایا گیا اور ان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ شکایت کنندگان میں شامل ایک خاتون صحافی نے الزام لگایا تھا کہ پولیس کارروائی کی کوریج کے دوران اے سی پی وویک بھگت نے انہیں نامناسب طریقے سے چھوا۔ دوسری جانب، پولیس حکام کے مطابق، خواتین کے بیانات درج کر لیے گئے ہیں اور احتجاج کے مقام پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے۔ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے دہلی پولیس نے خاتون صحافیوں کی شکایت سے متعلق فائل کرائم برانچ کو منتقل کر دی ہے۔
کرائم برانچ کو سونپی گئی معاملے کی تحقیقات
ڈی سی پی نیہا یادو نے بتایا کہ نئی دہلی علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ تھی۔ اس کے تحت بغیر اجازت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے اور احتجاج کرنے پر پابندی ہوتی ہے۔
ان کے مطابق، مظاہرین کو بار بار وہاں سے ہٹنے کی ہدایت دی گئی تھی، لیکن جب انہوں نے انکار کیا تو پولیس نے کارروائی کی۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ بعد میں حراست میں لیے جانے کے دوران خود کو صحافی بتانے والی تین خواتین نے پولیس افسران پر ہاتھا پائی کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرائی۔ اس کے بعد ان کا طبی معائنہ کرایا گیا اور معاملہ کرائم برانچ کو بھیج دیا گیا۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس اس واقعے سے متعلق ویڈیو موجود ہو تو وہ اسے تفتیشی ایجنسی کے ساتھ شیئر کرے، تاکہ معاملے کی تحقیقات میں مدد مل سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 16 اکتوبر کو دہلی کے کناٹ پلیس…
یوپی نیوز: غازی پور کے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کے تین اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے…
اتر پردیش میں تین سطحی پنچایت انتخابات کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ نے…
ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھے ٹی 20 میچ میں موقع نہ ملنے کے درمیان 15…
ریپر اور گلوکار یو یو ہنی سنگھ کی مشکلات ایک بار پھر بڑھتی نظر آ…
انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے اور دشینت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے…