نئی دہلی: ٹاٹا گروپ کی فضائی کمپنی ایئر انڈیا نے کہا ہے کہ دہلی سے امرتسر جانے والی اس کی ایک پرواز امرتسر ہوائی اڈے پر لینڈنگ کے دوران “گو اراؤنڈ” (دوبارہ لینڈنگ کی کوشش) کے عمل کے وقت مختصر مدت کے لیے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوگئی تھی۔ ایئر لائن کے مطابق یہ واقعہ ایئر انڈیا کی پرواز AI479 کے ساتھ پیش آیا، جب طیارہ امرتسر ہوائی اڈے پر اترنے کی تیاری کر رہا تھا۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ 22 جون کو دہلی سے امرتسر جانے والی پرواز کے عملے نے گو اراؤنڈ طریقۂ کار کے دوران محدود وقت کے لیے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اطلاع دی۔ ایئر انڈیا نے کہا کہ اس واقعے سے متعلق متعلقہ ضابطہ ساز اداروں کو مطلع کر دیا گیا ہے اور کمپنی نے اندرونی سطح پر بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایئر انڈیا کے لیے مسافروں اور فضائی عملے کی سلامتی سب سے بڑی ترجیح ہے۔
پاکستانی فضائی حدود پر پابندی بدستور برقرار
فی الوقت پاکستان نے بھارتی رجسٹریشن والے، بھارتی ملکیت کے یا بھارتی کمپنیوں کے لیز پر لیے گئے تمام شہری اور فوجی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔ یہ پابندی اپریل 2025 میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں بھارتی سیاحوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے اور اس کے بعد سرحدی کشیدگی میں اضافے کے بعد نافذ کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے پاکستان ہر ماہ اس پابندی میں توسیع کرتا آ رہا ہے، جبکہ بھارت نے بھی جوابی اقدام کے طور پر پاکستانی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔ اسی ماہ کے آغاز میں پاکستان نے بھارتی شہری اور فوجی طیاروں پر فضائی پابندی میں 24 جولائی تک توسیع کر دی تھی۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق یہ پابندی 16 جون کی شام 5 بج کر 50 منٹ سے 24 جولائی کی صبح 4 بج کر 59 منٹ تک نافذ رہے گی۔
پابندی سے بھارتی ایئرلائنز پر مالی بوجھ میں اضافہ
پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث ایئر انڈیا اور انڈیگو جیسی بھارتی فضائی کمپنیوں کو یورپ، وسطی ایشیا اور شمالی امریکہ جانے والی پروازوں کے لیے طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔ شمالی راستہ استعمال نہ کر پانے کے سبب مغربی اور شمالی سمت کی پروازیں اب بحیرۂ عرب کے اوپر سے متحدہ عرب امارات، عمان اور دیگر متبادل فضائی راستوں سے گزرتی ہیں۔ ان طویل راستوں کی وجہ سے طیاروں کو زیادہ ایندھن لے کر پرواز کرنا پڑتی ہے، جس سے مسافروں اور کارگو کی گنجائش متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ فضائی کمپنیوں پر کروڑوں روپے کا اضافی مالی بوجھ بھی پڑ رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں فضائی کرایوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ پاکستانی فضائی حدود پر پابندی اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو وقتاً فوقتاً وسطی ایشیا کے شہروں، جیسے الماتی اور تاشقند، کے لیے بعض بین الاقوامی پروازیں عارضی طور پر معطل بھی کرنی پڑی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…