قومی

Chhattisgarh Maoist Surrender: وزیر داخلہ امت شاہ اپنے وعدے پر ثابت قدم، چھتیس گڑھ میں 52 ماؤ وادیوں نے کیا سرنڈر

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں ماؤ واد مخالف مہم کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں چھتیس گڑھ کے بیجاپور ضلع میں 52 ماؤ وادیوں نے سکیورٹی فورسز کے سامنے خودسپردگی اختیار کر لی۔ ان ماؤ وادیوں پر مجموعی طور پر ایک کروڑ اکتالیس لاکھ روپے کا انعام مقرر تھا۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ بستر خطے میں امن کی بحالی کی سمت ایک اہم سنگ میل مانا جا رہا ہے۔ خودسپردگی کرنے والوں میں 21 خواتین اور 31 مرد شامل ہیں، جو مختلف سرگرم ماؤ وادی تنظیموں سے وابستہ تھے۔ یہ تمام افراد جنوبی سب ریجنل بیورو، دنڈکارن اسپیشل زونل کمیٹی، آندھرا-اوڈیشہ بارڈر ڈویژن اور بھامرا گڑھ ایریا کمیٹی جیسے مضبوط ماؤ وادی نیٹ ورکس کا حصہ رہے ہیں۔ ان میں کئی ہائی پروفائل نام بھی شامل ہیں، جن کی گرفتاری یا خودسپردگی سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے طویل عرصے سے ایک بڑا ہدف بنی ہوئی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق خودسپردگی کرنے والوں میں ڈی وی سی رکن لکّھو کرم عرف انل شامل ہے، جس پر آٹھ لاکھ روپے کا انعام تھا۔ اسی طرح پی پی سی رکن لکشمی ماڈوی عرف رتنا نے بھی ہتھیار ڈال دیے، جس پر بھی حکومت نے آٹھ لاکھ روپے کا انعام مقرر کر رکھا تھا۔ ان دونوں کے علاوہ دیگر سینئر کیڈرز، ملیشیا کمانڈرز اور جناتنہ سرکار سے وابستہ عناصر بھی شامل ہیں۔ اس پوری کارروائی میں ضلع ریزرو گارڈ، بستر فائٹرز، اسپیشل ٹاسک فورس، کوبرا بٹالین اور سی آر پی ایف نے مشترکہ طور پر اہم کردار ادا کیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جتیندر کمار یادو نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی مسلسل کارروائیوں اور حکومت کی جانب سے امن و ترقی کی اپیلوں کا گہرا اثر پڑا ہے۔ ماؤ وادیوں نے تشدد کی بے معنی راہ کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکام کے مطابق خودسپردگی کرنے والے تمام افراد کو ریاستی حکومت کی بازآبادکاری پالیسی کے تحت سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس پالیسی میں مالی امداد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش اور روزگار کے مواقع شامل ہیں، تاکہ وہ عام سماج کی دھارا میں واپس لوٹ سکیں۔

یہ کامیابی بیجاپور ضلع میں جاری انسداد نکسلی مہم کی ایک اور مضبوط کڑی ہے۔ جنوری 2024 سے اب تک اس ضلع میں 824 ماؤ وادیوں نے خودسپردگی کی ہے، 1,126 کو گرفتار کیا گیا ہے اور 223 نکسلی مختلف مڈبھیڑوں میں مارے جا چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے کی قیادت میں اب تک پورے چھتیس گڑھ میں دو ہزار سے زائد ماؤ وادی ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ماؤ واد کی کمر ٹوٹ رہی ہے اور بستر خطہ آہستہ آہستہ تشدد سے نکل کر امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Cockroach Janta Party: سی جے پی احتجاج، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ، ممبئی میں 50 ہزار افراد کے جمع ہونے کا دعویٰ، کیا ہے تیاری؟

احتجاج سے قبل 2 اکتوبر کی صبح ابھجیت دیپکے باندرہ اسٹیشن پر چائے پیتے بھی…

50 minutes ago

PM Modi Tribute: دو اکتوبر کو پی ایم مودی کی ملک کے عوام سے خاص اپیل! راج گھاٹ پہنچ کر کھادی کے بارے میں کیا کہا؟

گاندھی جینتی پر پی ایم مودی نے راج گھاٹ پہنچ کر باپو کو خراج عقیدت…

1 hour ago

Bigg Boss 20: بگ باس 20 سے باہر آتے ہی قاضی کی فین ہوئیں ایشا رِکھی، سابق شوہر بادشاہ سے تعلق پر بھی کی بات

سابق شوہر اور ریپر بادشاہ کے ساتھ اپنا نام جوڑے جانے اور اپنی عوامی شبیہ…

1 hour ago