نئی دہلی میں بدھ کے روز جھارکھنڈ بی جے پی کے کئی بڑے رہنما ایک ساتھ مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ ریاستی بی جے پی کے صدر آدتیہ ساہو اور حزب اختلاف کے لیڈر بابولال مرانڈی کی قیادت میں وفد نے جھارکھنڈ کی موجودہ سیاسی صورتحال اور پارٹی تنظیم سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات کو جھارکھنڈ کی سیاست کے لحاظ سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آنے والے دنوں میں معدنیات اور کان کنی سے متعلق معاملات پر ریاست میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے۔
جھارکھنڈ بی جے پی کے تقریباً تمام بڑے چہرے موجود
ملاقات میں جھارکھنڈ بی جے پی کے تقریباً تمام اہم لیڈروں کی موجودگی نے بھی سیاسی قیاس آرائیوں کو تیز کر دیا ہے۔ وفد میں آدتیہ ساہو اور بابولال مرانڈی کے علاوہ سابق وزرائے اعلیٰ ارجن منڈا، رگھوور داس اور چمپئی سورین بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ سابق ریاستی صدور رویندر رائے اور دیپک پرکاش کے ساتھ تنظیم کے جنرل سکریٹری کرم ویر سنگھ نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔ذرائع کے مطابق امت شاہ کے ساتھ بات چیت میں جھارکھنڈ کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے ساتھ آنے والے وقت میں بی جے پی کی سیاسی اور تنظیمی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر داخلہ نے ریاستی لیڈروں کو ضروری ہدایات اور تجاویز دیں۔تاہم بی جے پی کی جانب سے یہ سرکاری طور پر نہیں بتایا گیا کہ ملاقات میں کن معاملات پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ اس کے باوجود بڑے لیڈروں کی موجودگی اور ملاقات کے وقت کو دیکھتے ہوئے اسے محض ایک معمول کی تنظیمی میٹنگ سے الگ نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
ایم ایم ڈی آر بل پر بڑھ سکتا ہے سیاسی تنازع
دراصل، مرکزی حکومت کے مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ترمیمی بل، 2026 یعنی ایم ایم ڈی آر بل کو لے کر جھارکھنڈ میں سیاسی کشیدگی بڑھنے کے امکانات ہیں۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) سمیت اپوزیشن جماعتیں اس بل کے خلاف احتجاج کی تیاری کر رہی ہیں۔جے ایم ایم نے 20 اگست کو پارٹی کی ایک اہم میٹنگ طلب کی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اس اجلاس میں بل کے خلاف ریاست گیر احتجاج کی آئندہ حکمت عملی طے کی جا سکتی ہے۔ پارٹی اس معاملے کو جھارکھنڈ کے معدنی وسائل اور ریاست کے حقوق سے جوڑ کر عوام کے درمیان لے جانے کی تیاری کر رہی ہے۔
بی جے پی کے سامنے بھی بڑا چیلنج
جھارکھنڈ معدنی وسائل کے اعتبار سے ملک کی اہم ریاستوں میں شامل ہے۔ ایسے میں کان کنی اور معدنیات سے متعلق کسی بھی بڑے فیصلے کا براہِ راست اثر ریاست کی سیاست پر پڑ سکتا ہے۔ جے ایم ایم اسے ریاست کے حقوق اور وسائل کا مسئلہ بنا کر عوام کے درمیان لے جانے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ بی جے پی کے لیے مرکزی حکومت کے فیصلے کا مؤثر دفاع کرنا اہم ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
جنگ کے میدان میں غیر معمولی حوصلے اور زندہ رہنے کی شدید خواہش کی ایک…
چیک جمہوریہ کی ٹینس کھلاڑی کیٹرینا سنیاکووا نے فائنل میں امریکہ کی ایشلین کروگر کو…
بارک اوباما کی ٹرمپ پر سخت تنقید: امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما نے اوہائیو…
اڈانی ایئرپورٹ ہولڈنگز لمیٹڈ نے ایئر انڈیا گروپ کے اس منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔…
ہریدوار میں آچاریہ مہامنڈلیشور سوامی کیلاش آنند گری مہاراج کی ساون کے بعد اب نوراتری…
انڈیگو چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے سے روزانہ 12 بین الاقوامی پروازیں نوی…