نئی دہلی: ملک کے دارالحکومت نئی دہلی میں واقع جدید کنونشن سینٹر بھارت منڈپم میں پیر کے روز زرعی اور امدادِ باہمی شعبے کا ایک بڑا اور اہم اجتماع منعقد ہوا، جہاں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے انڈین فارمرز فرٹیلائزر کوآپریٹو لمیٹڈ (ایفکو) کی 55ویں سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ملک بھر سے آئے کسان رہنماؤں، ماہرین زراعت اور امدادی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ اجلاس صبح ساڑھے گیارہ بجے بھارت منڈپم میں شروع ہوا، جس میں تقریباً 1500 سے زائد نمائندوں نے حصہ لیا۔ پروگرام کا بنیادی مقصد زرعی ترقی، دیہی معیشت کی مضبوطی، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور امدادِ باہمی کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے پر غور کرنا تھا۔
اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ و امدادِ باہمی امیت شاہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن ’’سہکار سے سمردھی‘‘ یعنی ’’تعاون سے خوشحالی‘‘ کو ملک کی ترقی کا اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2047 تک ’’وکست بھارت‘‘ کے ہدف کو حاصل کرنے میں امدادی تنظیموں اور کسانوں کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوگا۔ امت شاہ نے کہا کہ دیہی معیشت کو خود کفیل بنانے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر کھاد اور سائنسی طریقۂ کاشتکاری کو فروغ دینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایفکو جیسے ادارے کسانوں کو جدید سہولیات فراہم کرکے زراعت کے شعبے میں نئی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔
اجلاس کے دوران ایفکو کی گزشتہ برس کی کامیابیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ خاص طور پر نینو یوریا اور نینو ڈی اے پی جیسی جدید کھادوں کے استعمال اور ان کے مثبت نتائج پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ ان نئی مصنوعات نے نہ صرف کسانوں کے اخراجات کم کیے ہیں بلکہ پیداوار میں بھی اضافہ کیا ہے۔ بھارت منڈپم کے وسیع ہال میں منعقد اس تقریب میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے کسان نمائندوں اور زرعی ماہرین نے امدادی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور زرعی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں دیہی ترقی، ماحول دوست زراعت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔
ایفکو کو دنیا کی سب سے بڑی اور کامیاب کھاد امدادی تنظیموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی سالانہ جنرل میٹنگ کو ملک کے زرعی شعبے کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اجلاس میں ہونے والی گفتگو اور پالیسی تجاویز مستقبل میں زرعی شعبے کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اجلاس میں شریک نمائندوں نے امید ظاہر کی کہ امدادِ باہمی کے ماڈل کو مزید وسعت دے کر کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ امیت شاہ کی موجودگی اور ان کے خطاب کو کسانوں اور امدادی اداروں کے لیے ایک نئے عزم اور توانائی کا پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے زرعی شعبے میں مزید اصلاحات کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…