نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مرکزی حکومت، آسام اور ناگالینڈ کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی مفاہمت نامے (ایم او یو) کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے شمال مشرق میں کئی دہائیوں سے جاری تنازع کا خاتمہ ہوگا اور تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے لیے نئی راہیں کھلیں گی۔ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مرکزی حکومت، آسام اور ناگالینڈ کے درمیان ایک تاریخی سہ فریقی مفاہمت نامہ طے پایا ہے، جس نے شمال مشرق کے ایک طویل عرصے سے جاری تنازع کو ختم کرتے ہوئے خطے میں تیل اور گیس کی تلاش کا راستہ صاف کر دیا ہے۔‘‘
A historic tripartite MoU has been signed by Govt. of India, Govt. of Assam and Govt. of Nagaland ending a decades-long dispute in the Northeast and opening way for oil & gas exploration in the region. It stands out as an exemplar of India’s unity, where both the states give up… pic.twitter.com/1x7vfGnoKS
— Amit Shah (@AmitShah) June 12, 2026
قومی مفاد کو ترجیح دینے کا فیصلہ
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ معاہدہ بھارت کے اتحاد اور قومی مفاد کی ایک بہترین مثال ہے، جہاں دونوں ریاستوں نے اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر وزیراعظم نریندر مودی کے توانائی کے شعبے میں خود کفیل بھارت کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعرات کو معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ’’نیشن فرسٹ‘‘ کے جذبے کے تحت آسام اور ناگالینڈ نے اپنے تنازعات کو قومی مفاد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ریاستیں تیل اور گیس کے وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کو 50-50 کے تناسب سے تقسیم کرنے پر متفق ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ قومی دولت ہے اور اس حوالے سے دونوں ریاستوں کا مثبت رویہ قابل ستائش ہے۔
ہیمنت بسوا سرما اور نیفیو ریو کی ستائش
امت شاہ نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور ناگالینڈ کے وزیراعلیٰ نیفیو ریو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے وسیع تر قومی مفاد کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا، ’’میں جانتا ہوں کہ ہیمنت بسوا سرما آسام کے مفادات کے معاملے میں انتہائی مضبوط مؤقف رکھتے ہیں، لیکن جب میں نے ان سے اس مسئلے پر لچک دکھانے کی درخواست کی تو انہوں نے فوراً مثبت رویہ اختیار کیا۔‘‘ وزیر داخلہ کے مطابق اس معاہدے سے صرف تیل و گیس ہی نہیں بلکہ پورے شمال مشرق میں معدنی وسائل کی تلاش اور کان کنی کی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پیداوار جو یومیہ ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار بیرل کے درمیان ہے، اس میں دس گنا سے زیادہ اضافہ ممکن ہے۔
15 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ذخائر
امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ صرف ایک آئل فیلڈ میں ہی 15 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے وسائل موجود ہیں، جبکہ ناگالینڈ میں موجود تیل اور گیس کے تمام ذخائر سے مکمل استفادہ بھارت کی بیرونی توانائی پر انحصار کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔ اس مفاہمت نامے پروزیرداخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری، آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور ناگالینڈ کے وزیراعلیٰ نیفیو ریو کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔ معاہدے کے تحت آسام-ناگالینڈ سرحد کے ساتھ واقع ایک ہزار مربع کلومیٹر سے زائد علاقے میں تیل، گیس اور دیگر معدنی وسائل کی تلاش اور پیداوار کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس علاقے میں توانائی کے وافر ذخائر موجود ہیں، جو مستقبل میں بھارت کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…