قومی

Amit Shah Directed Formation of Central Team Amid Himachal Disasters: امت شاہ نے دی ہماچل پردیش میں بڑھتی ہوئی قدرتی آفات کے درمیان ملٹی سیکٹرل مرکزی ٹیم کی تشکیل کی ہدایت

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہماچل پردیش میں حالیہ برسوں میں قدرتی آفات کی شدت اور تعداد میں اضافے کے پیش نظر ایک ملٹی سیکٹرل ماہرین پر مبنی سنٹرل ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے۔ وزارت داخلہ نے اتوار کے روز اس فیصلے سے متعلق تفصیلات جاری کیں۔ اس مرکزی ٹیم میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)، سینٹرل بلڈنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ (CBRI) رورکی، انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹیورولوجی (IITM) پونے، ایک ماہر ارضیات اور انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IIT) اندور کے ماہرین شامل ہوں گے۔

یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں وزیر داخلہ امت شاہ کو بتایا گیا کہ ہماچل پردیش میں بادل پھٹنے، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈ اور طوفانی بارش جیسے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے انسانی جانوں، بنیادی ڈھانچے، روزگار اور ماحولیات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

نقصانات کے جائزے کے لیے پہلے ہی روانہ ہو چکی ہے ٹیم

مرکزی حکومت نے جنوبی مغربی مانسون 2025 کے دوران ہماچل میں آنے والے سیلاب، لینڈ سلائیڈز اور دیگر آفات کے تناظر میں فوری ردعمل کے طور پر ایک بین الوزارتی مرکزی ٹیم (IMCT) پہلے ہی روانہ کر دی ہے، جو ریاست میں نقصانات کا براہ راست جائزہ لے رہی ہے۔ یہ ٹیم 18 جولائی سے 21 جولائی تک متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گی۔

2023 کی تباہ کاریوں کے لیے 2006 کروڑ روپے کی منظوری

دریں اثنا امت شاہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے 2023 میں آفات سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے ہماچل پردیش کو 2006.40 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ اس رقم میں سے پہلی قسط 451.44 کروڑ روپے کی صورت میں 7 جولائی 2025 کو جاری کر دی گئی تھی۔ اسی طرح 18 جون 2025 کو اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ (SDRF) سے 198.80 کروڑ روپے کی پہلی قسط بھی ریاست کو فوری ریلیف اقدامات کے لیے فراہم کی گئی۔

این ڈی آر ایف اور افواج کی تعیناتی

مرکزی حکومت نے ریاست کو ہر ممکن لاجسٹک مدد بھی فراہم کی ہے، جس میں نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF)، فوج اور فضائیہ کی ٹیموں کی تعیناتی شامل ہے۔ اس وقت ہماچل پردیش میں این ڈی آر ایف کی 13 ٹیمیں ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مصروف ہیں۔

مانسون میں اب تک 119 ہلاکتیں، 146 سڑکیں بند

ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (SDMA) کے مطابق 20 جون سے مانسون کے آغاز کے بعد سے اب تک ہماچل میں 119 افراد کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ 146 سڑکیں بند ہیں، 28 بجلی کے ٹرانسفارمر ناکارہ ہو چکے ہیں، جب کہ 58 آبی فراہمی کی اسکیمیں متاثر ہیں۔ واضح رہے کہ 15 جولائی کو ہماچل کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے بھی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کر کے ریاست کو درپیش نقصان سے آگاہ کیا تھا اور مرکزی امداد کی درخواست کی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Indians in Germany: جرمنی میں ہندوستانیوں کی تعداد 4 لاکھ کے قریب، 70 ہزار طلبہ کر رہے ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل

جرمنی میں ہندوستانی برادری کی موجودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سستی تعلیم،…

8 hours ago

Manoj Bajpayee Raises A Question: منوج باجپائی کا سوال: جو لوگ سماج کے مسائل پر بات نہیں کرتے، انہیں اسٹار کا درجہ کیوں دیا جائے؟

ممبئی کے ’مکتی آڈیٹوریم‘ میں منعقدہ تقریب کے دوران اداکار منوج باجپائی نے فلمی ستاروں…

8 hours ago