نئی دہلی: مبینہ نیٹ امتحانی پیپر لیک کے خلاف ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کے جاری احتجاج کے درمیان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے پیر کو قومی دارالحکومت میں تقریباً چار گھنٹے تک ملاقات کی۔ دریں اثنا، CJP کے ایک وفد نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سے ملاقات کی اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ وفد نے مبینہ NEET پیپر لیک کے معاملے پر پردھان کے فوری استعفے یا انہیں عہدے سے ہٹانے سمیت پارٹی کے دیگر مطالبات بھی پیش کیے۔ پارٹی کے ترجمان سورَو داس نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’آشوتوش رانکا اور میں دوپہر 12 بجے سے جے پی نڈا کی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔ دھرمیندر پردھان کے فوری استعفے یا برطرفی سمیت تمام مطالبات پیش کر دیے گئے ہیں۔‘‘ پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’’وزیر نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے پر مناسب سطح پر بات کریں گے۔ تاہم ابھی تک کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے۔ پُرامن مظاہرین مطالبہ پورا ہونے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘
نڈا نے مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی
بعد ازاں جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت نے احتجاج کرنے والے وفد سے بات چیت کی ہے۔ وفد نے انہیں ایک تحریری عرضداشت بھی پیش کی، جس کے بعد انہوں نے مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے اور معمولات زندگی بحال کرنے میں انتظامیہ کی مدد کرنے کی اپیل کی۔ نڈا نے ایکس پر لکھا ’’آج صبح پہلی مرتبہ مظاہرین کی جانب سے حکومت کے ساتھ بات چیت کی تجویز سامنے آئی اور صبح 11 بج کر 50 منٹ سے ہماری بات چیت جاری ہے۔ ملاقات خوش گوار ماحول میں ہوئی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’وفد کے ساتھ ابتدائی زبانی گفتگو تفصیل سے ہوئی اور انہوں نے تقریباً شام 4 بجے مجھے ایک تحریری عرضداشت پیش کی۔ میں نے تمام مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے اور انتظامیہ کو معمولات زندگی بحال کرنے میں مدد دینے کی اپیل کی ہے۔‘‘
12 سالہ بچی پر حملے کے دعوے کو دہلی پولیس نے غلط قرار دیا
دہلی پولیس نے سورَو داس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ CJP کے احتجاج کے دوران ایک 12 سالہ بچی پر حملہ کیا گیا اور درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے۔ پولیس نے ان الزامات کو ’’غلط‘‘ قرار دیتے ہوئے لوگوں سے گمراہ کن اطلاعات پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کی۔ دہلی پولیس نے کہا ’’فیکٹ چیک: سوشل میڈیا پر اس دعوے سے متعلق غلط معلومات گردش کر رہی ہیں کہ گیتانجلی نامی 12 سالہ بچی پر حملہ کیا گیا، اس کے بال کھینچے گئے، اس کے سر میں چوٹ لگی اور تقریباً 40 سے 50 دیگر افراد کے سر پھوڑ دیے گئے۔‘‘ پولیس نے مزید کہا، ’’یہ معلومات غلط ہیں۔ پوسٹس میں کیے جا رہے دعوے درست نہیں ہیں۔ براہ کرم غلط یا گمراہ کن معلومات کو نہ پھیلائیں اور نہ ہی اسے مزید فروغ دیں۔‘‘ اس سے قبل سورَو داس نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے الزام لگایا تھا، ’’گیتانجلی جی کے بال دہلی پولیس نے کھینچے اور ان پر حملہ کیا۔ 12 سالہ بچی کا سر پھوڑ دیا گیا۔ 40 سے 50 دیگر لوگوں کے سر پھوڑ دیے گئے! دہلی پولیس، یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اسکیم نے علاج کے اخراجات میں ریکارڈ بچت کو…
امت شاہ نے ’’ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029‘‘ کو منشیات کے خطرے کے خلاف جنگ میں شامل…
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم…
پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…
وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…