قومی

Amit Shah’s Address to CRPF’s 87th Foundation Day: ’شمال مشرق سے لے کر کشمیر تک امن قائم…‘ سی آر پی ایف کے یومِ تاسیس کی پریڈ میں امت شاہ کا خطاب

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آسام میں منعقدہ سی آر پی ایف (سنٹرل ریزرو پولیس فورس) کے 87ویں یومِ تاسیس کی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی داخلی سلامتی میں نیم فوجی دستے کے کردار کو بھرپور سراہا۔ انہوں نے سی آر پی ایف کے 2200 سے زائد شہید جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے امن اور اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے اہلکاروں کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے کہا کہ تقریباً 11 سے 12 سال قبل ملک کے کچھ علاقے، جن میں شمال مشرقی ریاستیں، نکسل متاثرہ خطے اور جموں و کشمیر شامل تھے، مسلسل تشدد کی لپیٹ میں رہتے تھے۔ اُس وقت بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات عام تھے، تاہم آج ان علاقوں میں حالات بڑی حد تک پُرامن ہو چکے ہیں۔

31 مارچ کی ڈیڈ لائن پر کیا بولے؟

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یقین ظاہر کیا کہ مرکزی حکومت 31 مارچ 2026 تک ملک کو نکسل ازم کے مسئلے سے مکمل طور پر آزاد کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک کی 12 ریاستوں اور متعدد اضلاع میں ماؤ نواز سرگرمیوں کا گہرا اثر تھا، لیکن حکومت کے مضبوط عزم اور سکیورٹی فورسز کی مسلسل کارروائیوں سے صورتحال میں تیزی سے بہتری آئی ہے۔ انہوں نے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنے پیچیدہ اور چیلنجنگ مسئلے کو چند برسوں میں قابو میں لانا سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آئینی تبدیلیوں، خصوصاً آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھی بڑے پیمانے پر بدامنی دیکھنے میں نہیں آئی اور ایک بھی گولی چلانے کی ضرورت پیش نہیں آئی، جس میں سی آر پی ایف کا اہم کردار رہا۔

شمال مشرقی ریاستوں میں امن؟

شمال مشرقی ریاستوں میں امن کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منی پور میں حالیہ نسلی تشدد پر قابو پانے میں بھی سی آر پی ایف نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق جب بھی ملک کے کسی حصے میں بحران پیدا ہوتا ہے تو سی آر پی ایف کے جوان سب سے آگے رہ کر حالات کو سنبھالتے ہیں۔

سی آر پی ایف جوانوں کی بہادری کو خراجِ تحسین

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر داخلہ نے کہا کہ سی آر پی ایف کے جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کی بدولت ملک جلد ہی ماؤ ازم سے مکمل طور پر پاک ہو جائے گا اور قومی سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ شمال مشرق میں 700 سے زائد، نکسل متاثرہ علاقوں میں 736 اور جموں و کشمیر میں تقریباً 500 جوانوں نے ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی تقریباً 250 اہلکار شہید ہوئے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

2 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

2 hours ago